حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 129 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 129

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل باب پنجم حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت کی حقیقت 129 قرآنی شریعت کے نزول سے قبل موسوی شریعت کا دور دورہ تھا۔جن معاملات میں ابھی کوئی قرآنی حکم نازل نہیں ہوا ہوتا تھا تو اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی موسوی شریعت کو مد نظر رکھتے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سلسلہ نبوت جاری رہا اور یہ سلسلہ حضرت عیسی علیہ السلام پر آکر ختم ہوا۔اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام جو نبی تھے تو کس قسم کے نبی تھے آپ کی نبوت کی حقیقت کیا تھی۔یعنی کیا آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح شارع نبی تھے یا دیگر غیر شارع نبیوں کی طرح ایک نبی تھے جو اپنے سے پہلے کی شریعت کے تابع ہوتے ہیں یا شریعت کی لعنت سے بنی نوع انسان کو آزاد کرانے کیلئے تشریف لائے تھے اب دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم اور اناجیل اربعہ اس امر پر کیا روشنی ڈالتے ہیں۔قرآن کریم میں آپ کی نبوت کا ذکر وَجَعَلَنِي مُبْرَكًا أَيْنَ مَا كُنْتُ ، وَأَوْصَنِي بِالصَّلوةِ وَالزَّكُوةِ مَادُمْتُ حَيَّاه (سورة مريم: آیت ۳۲) ترجمہ: اس نے مجھے کتاب دی اور نبی بنایا اور مجھے مبارک کیا جہاں کہیں بھی میں ہوں۔اور مجھے نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم دیا۔جب تک کہ میں زندہ ہوں۔