حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 128 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 128

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 128 نے آپ کے ساتھ بھی روار کھا نیز آپ پر بدکاری کا الزام بھی لگایا جیسا کہ لکھا ہے: اگر یہ بد کا رنہ ہوتا تو ہم اسے تمہارے حوالے نہ کرتے۔( یوحنا باب ۱۸ آیت ۳۰) ایسے الزامات انبیاء کے مخالفین ان پر لوگوں میں ان کے متعلق نفرت پیدا کرنے کیلئے لگاتے ہیں لیکن اس کا نتیجہ ہمیشہ الٹ ہوتا ہے ان کی مقبولیت بڑھتی ہے اور ماننے والوں کی تعداد بھی بڑھتی ہے حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے دعوی نبوت کی صداقت کے حق میں تین مشہور دلائل بیان فرمائے ہیں جو ہر نبی اپنی سچائی کیلئے پیش فرماتا ہے۔اوّل نفسی ناطقہ، دوم نصرت الہی ،سوم حالات زمانہ۔آپ فرماتے ہیں: تمہاری توریت میں بھی لکھا ہے کہ دو آدمیوں کی گواہی کچی ہوتی ہے ایک تو میں خود اپنی گواہی دیتا ہوں اور ایک باپ جس نے مجھے بھیجا میری گواہی دیتا 66 (استثنا باب ۱۷ آیات ۱۵ تا ۱۹) اے ریا کارو! آسمان اور زمین کی صورت میں تو امتیاز کرنا تمہیں آتا ہے۔لیکن اس زمانہ کی بابت امتیاز کرنا نہیں آتا۔( لوقا باب ۱۲ آیت ۵۷) پس آپ کی اپنی گواہی آپ کی پاکیزہ زندگی تھی جسے آپ نے اپنے دعوی کے ثبوت کے طور پر پیش فرمایا۔سچ ہے آفتاب آمد دلیل آفتاب۔اور دوسری دلیل آپ نے خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کو پیش فرمایا ہے۔اور تیسری گواہی زمانے کی پرکھ کرنے کو پیش کیا ہے کہ زمانہ اس بات کا مقتضی تھا کہ مسیح کی آمد ہو۔لوگ اس کا انتظار کر رہے تھے اور دین کی ابتر حالت بھی اس بات کا تقاضا کرتی تھی کہ کوئی آکر انہیں نام نہاد فقہوں اور فریسیوں کے چنگل سے آزاد کرے۔جو لماً تَقُولُونَ مَالَا تَفْعَلُون کے مصداق بنے ہوئے تھے۔