حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 127 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 127

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل الشَّهِدِينَ (سورة آل عمران آیت ۵۴۔۵۳ ترجمہ: پھر جب عیسی نے ان کی طرف سے انکار محسوس کیا تو کہا کہ اللہ کیلئے کون میرا مددگار بنتا ہے حواریوں نے کہا ہم اللہ کے دین کے مددگار ہیں۔ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور تو گواہ رہ کہ ہم فرما بردار ہیں اے ہمارے رب جو کچھ تو نے اتارہ ہے۔سو اسی پر ایمان لائے اور اس رسول کے متبع ہو گئے ہیں۔اس لئے تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے۔آمین۔مسیح علیہ السلام کی تبلیغ اور قبولیت عام 127 یسوع ( علیہ السلام) تمام گلیل میں پھرتارہا اور ان کے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماریوں اور کمزوریوں کو دور کرتا رہا اس کی شہرت تمام سور یا میں پھیل گئی اور گلیل اور دکپلس اور یروشلم اور یہود یہ اور بیرون کے پار سے بڑی بھیڑ اس کے پیچھے ہولی۔“ ( متی باب ۴ آیت ۲۳ تا ۲۵) ” جب اس کے عزیزوں نے سنا تو اسے پکڑنے کو نکلے کیونکہ کہتے تھے کہ وہ بے خود ہے۔اور فقیہہ جو یروشلم سے آئے تھے ( کہتے تھے ) کہ اس کے ساتھ بعلز بول ہے یہ بھی کہ وہ بدروحوں کے سردار کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہے۔“ ( مرقس باب ۳ آیت ۲۰ تا ۲۲) حضرت عیسی علیہ السلام نے جواباً فرمایا کہ: شیطان کو شیطان کس طرح نکال سکتا ہے۔“ ( مرقس باب ۳ آیت ۲۴) کیونکہ آپ علیہ السلام تو شیطان کی حکومت کو ختم کر کے رحمان کی حکومت کو قائم فرما رہے تھے اور اسی کی منادی کر رہے تھے۔آپ نے اپنے کام کی حقیقت کو پیش کیا اور ان کے اعتراض کورڈ کر دیا انبیاء کو ساحر اور مجنون کہنا قدیم سے مخالفین انبیاء کا طریق رہا ہے اور یہی طریق مخالفین