حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 126 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 126

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل حلفی کا بیٹا لاوی۔“ ( مرقس باب ۲ آیت ۱۲) یوحنا جس کا نام بوانرگس یعنی گرج کے بیٹے رکھا۔(مرقس باب ۳ آیت ۱۷) مریم مگدلینی۔یوانہ ہیرودیس کے دیوان خوزہ کی بیوی اور سوسناہ اور کئی اور عور تیں بھی تھیں جو اپنے مال سے ان کی خدمت کرتی تھیں اور بارہ رسولوں کی طرح اس کے ساتھ رہتی تھیں۔“ (لوقا باب ۸ آیات ۱ تا ۳ ) 126 انا جیل نے آپ کے شاگردوں کی طرف بعض کمزوریاں اور غفلتیں بھی منسوب کی ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ آپس کے حسد کا نتیجہ تھا۔قرآن کریم آپ کے حواریوں کی طرف منسوب الزامات کو قبول نہیں کرتا اور قرین قیاس بھی ایسا نہیں کہ دونبیوں کی صحبت میں یکے بعد دیگرے رہنے کے بعد ان سے ایسی کمزوریاں سرزد ہوئی ہوں۔اور(لوقا باب ۹ آیت ۳۰ تا ۳۸) سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کے حواری خصوصاً پطرس، یوحنا، یعقوب نیک تھے اور روحانی لحاظ سے ترقی یافتہ تھے۔وہ آپ کے ایک کشف میں بھی شریک ہوئے تھے۔انہوں نے پہاڑ پر مسیح علیہ السلام کو انبیاء اور موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ دیکھا کہ وہ آپس میں باتیں کر رہے تھے۔اسی پطرس کے متعلق مسیح نے بہت سی بشارتیں دی تھیں جس نے آپ کو بطور مسیح کے پہچانا اور جس کے بارے میں مسیح نے کہا تھا کہ میں تجھ پر اپنی کلیساء بناؤں گا۔پھر اس کے باوجود یہ بھی لکھا ہے کہ اس سے ایسی غلطی ہوئی کہ مسیح نے کہا کہ اے شیطان میرے سامنے سے دور ہو۔( دیکھیں متی باب ۱۶ آیت ۲۳) یہ متضاد بیانات صحیح معلوم نہیں ہوتے قرآن کریم کہتا ہے: فَلَمَّا أَحَسَّ عِيْسَى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ۔قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ امَنَّا بِاللهِ وَاشْهَدْ بأنَّا مُسْلِمُونَ رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ ط