حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 112 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 112

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل گے تم انہیں پہچان لینا بلکہ اپنے دوبارہ آنے کے متعلق فرمایا: ابن آدم کے آنے کا نشان یہ ہو گا کہ سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گریں گے اور آسمان کی قوتیں ہلائی جائیں گی اور اس وقت ابن آدم کا نشان ظاہر ہوگا۔" (متی باب ۲۴ آیات ۲۹-۳۰) 112 چنانچہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد وہ سچائی کا روح اور یوحنا کے مکاشفے کے مطابق نبیوں کی مہر آنحضرت علیہ ظاہر ہوئے اور آپ نے بھی اپنے بعد ایک مہدی اور مسیح کی آمد کے متعلق پیشگوئی فرمائی اور مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی کیلئے جو نشان ظاہر ہونا تھا اس کو وضاحت سے بیان فرمایا۔لکھا ہے: إِنَّ لِمَهْدِينَا يَتَيْنِ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ يَنْكَسِفُ القَمَرُ لِاَوَّل لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِي النِصْفِ مِنْهُ دار قطنی صفحه ۱۸۸ مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ اردو بازار، لاہور، پاکستان) حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اورمحمد بن علی نے روایت کی ہے کہ ہمارے مسیح و مہدی کے دو نشان ہیں۔یہ نشان آسمان وزمین کی پیدائش سے لیکر آج تک کبھی کسی کیلئے ظاہر نہیں ہوئے ایک تو یہ کہ قمر کو پہلی رات میں ( گرھن والی راتوں میں سے ) گرھن لگے گا اور دوسرا یہ کہ سورج کو اس رمضان میں ( گرھن والے دنوں میں سے ) درمیانے دن میں گرھن لگے گا۔اس نشان میں خصوصیت یہ ہے کہ ابتداء دنیا سے صرف مسیح و مہدی کے لئے ہی یہ نشان مخصوص ہے۔مسیح علیہ السلام نے بھی کہا تھا کہ یہی ابن آدم کے دوبارہ آنے اور اس کی صداقت کا نشان ہوگا۔چنانچہ مسیح علیہ السلام کے بتائے ہوئے نشان کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدیق و تجدید فرما دی اور ۱۸۹۴ء میں بعینہ یہی نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند اور مسیح و مہدی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے حق میں پورا ہو گیا اور اگلے سال ۱۸۹۵ء میں انہی رمضان کی