حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 111 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 111

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 111 عورت نے اس سے کہا اے خداوند مجھے معلوم ہوتا ہے کہ تو نبی ہے۔۔۔۔۔یسوع نے عورت سے کہا کہ اے عورت میری بات کا یقین کر کہ وہ وقت آتا ہے کہ تم نہ تو اس پہاڑ پر باپ کی پرستش کرو گے اور نہ یروشلم میں عورت نے اس سے پہلے کہا میں جانتی ہوں کہ مسیح جو خرسنتس کہلاتا ہے آنے والا ہے۔جب وہ آئے گا تو ہمیں سب باتیں بتا دے گا۔یسوع نے کہا میں جو تجھ سے بول رہا ہوں وہی ہوں۔“ (یوحنا باب ۴ آیات ۱۹ تا ۲۷) عورت نے آپ کی غیب دانی کی وجہ سے آپ کو پہلے نبی کہا جب آپ نے اسے بتایا کہ باپ کی پرشش یروشلم میں نہ رہے گی اور وقت آتا ہے کہ باپ کی پرستش سچائی اور روح سے کہیں اور ہوگی اور خدا کچے پرستار ڈھونڈے گا تو اس نے کہا کہ ہاں ہاں مجھے معلوم ہے۔مسیح آنے والا ہے وہ ساری باتیں بتا دے گا اور حضرت عیسی علیہ السلام نے فوراً اپنے آپ کو مسیح بتایا اور بتایا کہ میں تمہیں وہ اہم باتیں بتا رہا ہوں جن کے بتانے کیلئے مسیح کا مامور ہونا مقدر تھا۔اور آپ اپنے حواریوں اور عقیدت مندوں کو بھی یہی باتیں بتاتے تھے مگر عوام الناس سے صرف تمثیلات میں کلام فرماتے تھے۔جیسا کہ فرمایا: ” مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنی ہیں اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔“ ( یوحنا باب ۱۶ آیات ۱۲ ۱۳) پھر آپ نے منتی باب ۲۴ آیت میں بھی اپنے ماننے والوں کو یہ کہہ کر ہوشیار کیا کہ : بہترے جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھیں گے اور بڑے بڑے نشان دکھا ئیں گے۔آپ نے واضح فرمایا ہے کہ میرے بعد جھوٹے طور پر کئی مسیح اور نبی ہونے کا دعویٰ کریں