حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 103
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔آنَا اللهُ ذُوبَكَهُ خَلَقْتُهَا يوم خَلَقْتُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ وَصَوّرَتْ الشَّمْسَ وَالقَمَرَ وَحَفَفْتُهَا بِسَبْعَةِ املاک حُنَفَاءَ لَا تَزُولَ حَتَّى يَزْوُلَ اخْشَابِهَا، مُبَارَكٌ لَا هْلِهَا فِي المَاءِ وَاللَّيْنِ۔103 (سیرۃ ابن ہشام جلد اول صفحه ۲۱۲ دار البیان العربی ، مصر ) سیرۃ ابن ہشام میں یہ روایت ہے کہ قبل بعثت نبوی بیت اللہ کی تعمیر کے وقت قریش کو رکن کے پاس سے کعبہ کی دیوار میں سے ایک کتاب ملی تھی جس میں بخظ سریانی کچھ لکھا تھا ان سے پڑھا نہ گیا کہ کیا لکھا تھا۔آخر ایک یہودی سے پڑھوایا تو معلوم ہوا کہ اس میں یہ عبارت لکھی تھی: میں خدا ہوں۔مکہ میرا ہے۔میں نے اُس کو اس روز پیدا کیا تھا ( دوسری روایت میں ہے کہ اس روز سے محترم بنایا تھا) جس روز آسمان وزمین پیدا کئے اور چاند اور سورج بنائے اور ہمیشہ کے واسطے سات فرشتوں کو متعین کیا جو اس پر سایہ مگن رہتے ہیں۔اور یہ زائل نہ ہو گا جب تک اس کے دونوں پہاڑ قائم ہیں۔برکت والا ہے اپنے اھل کے 66 لئے اس کا پانی اور دودھ۔“ (سیرۃ ابن ہشام متر جمہ شیخ محمد اسماعیل صاحب پانی پتی صفحہ ۱۰۱ مطبوعہ لاہور 1969ء) بعض روایات میں ہے کہ: یہ ایک کتبہ تھا جو کہ کعبہ کی لوح میں کندہ تھا اسے پڑھنے والا ایک عیسائی راہب تھا۔اخبار مکه صفحه ۴۲ مطبوعہ دارالمعارف، بیروت، لبنان) کتبہ کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عبارت کسی عیسائی زائر کی مناجات کا حصہ ہے یہ سریانی زبان میں ہے جو ابتدائی عیسائیوں کی زبان تھی ان مناجات سے خانہ کعبہ کیلئے اس عزت اور احترام کا پتہ لگتا ہے جو ابتدائی عیسائیوں کے دلوں میں خانہ کعبہ کیلئے موجود تھی۔قرون اولیٰ کے عیسائیوں کی تحویل میں ایک مجموعہ سریانی نظموں کا تھا جو وہ معابد میں پڑھا