حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 66
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 66 قریب یقیناً کھجور میں پائی جاتی تھیں ویسے بھی یہ علاقہ ملک عرب سے ملتا ہے اس لئے بھی کھجوروں کا یہاں پایا جانا یقینی ہے۔بیت لحم ایک پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے جو سطح سمندر سے ۲۳۵۰ فٹ بلندی پر ہے۔اس کے ارد گر دسر سبز وادیاں ہیں جو سارے یہودہ سے زیادہ خوبصورت ہیں اور سرسبز بھی ہیں۔اس پہاڑی کے اندر دو تین چشمے ہیں جن کو چشمہ سلیمان کہتے ہیں اور شہر میں پانی بھی یہاں سے ہی مہیا کیا جاتا ہے۔گویا شہر میں تالاب سلیمان سے نالیوں کے ذریعہ پانی لایا جاتا ہے۔اور اس طرح شہر سے جنوب مشرق کی طرف آٹھ سو گز یعنی کوئی نصف میل کے فاصلہ پر ڈھلوان کی طرف ایک اور چشمہ ہے۔( قاموس کتاب المقدس ترجمه و تالیف از ڈاکٹر جارج ای پوسٹ ایم ڈی ) چنانچہ حضرت مریم جب بیت لحم گئیں تو وہ شہر میں ٹھہرنے کی بجائے اس مضافاتی علاقہ میں چلی گئیں اور وہاں ہی ٹھہری تھیں جیسا کہ لوقا باب ۲ آیت ۸ میں لکھا ہے: ” اس علاقہ میں چرواہے تھے جو رات کے وقت میدان میں رہ کر اپنے گلہ کی نگہبانی کرتے تھے۔“ پس آپ بیت لحم کے مضافات میں ڈھلوان کی طرف اس مقام پر جہاں سے نشیب کی طرف چشمہ تھا در دزہ کی وجہ سے بے قرار ہوئیں اور فرشتہ نے چشمہ کی طرف سے پکارا اور کہا: قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا۔(سورة مريم: آیت۲۵) تیرے رب نے تجھ سے نشیب کی طرف ایک چشمہ جاری کیا ہوا ہے۔اسکی طرف جا اور کھجور کے درخت کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچ تاکہ تیری مصیبت آسان ہو۔زچگی بھی ہو جائے اور اس طرح سے تیرا پکا ہوا پھل بھی گرے اور پکی ہوئی کھجور میں بھی اور اس طرح سے عمدہ اور مناسب غذا میسر آجائے۔رسالہ مسلم ورلڈ جلد | صفحہ ۱۸۹ میں لکھا ہے: "Mary gave birth outside the town is more confirmable to the Quran۔E۔F۔F Bishop suggests that the "Streamlet"