حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 57
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل ہو کر کئی معجزات بھی جڑ دیئے ہیں۔57 لیکن قرآن کریم نے ایسی پیدائشی کے وقت پیدا ہونے والے فطری جذبات کا ذکر فرمایا ہے کہ حضرت مریم اور ان کے خاوند قوم کے طعن سے بچنے کیلئے ایک دور کی جگہ پر چلے گئے تھے اور جب دردزہ شدید ہوگئی تو حضرت مریم نے اس تکلیف کے احساس سے اور بعد میں ہونے والے اعتراضات کے خیال سے اس فطری جذبہ کا اظہار کیا کہ اے کاش ! میں اس سے قبل ہی مرگئی ہوتی۔اس وقت انکی والدہ یا کوئی اور مددگار بھی قریب نہ تھا۔انتہائی تکلیف کا عالم تھا اور پہلی پیدائش کی تکلیف بھی زیادہ ہوتی ہے ایسے مواقع پر آپ کا ایسا کہنا عین فطرت کے مطابق ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہدایات دینی شروع کیں اور کھجور کے تنے کو پکڑ اپنی طرف کھینچنے کو کہا تا کہ ولادت بھی آسان ہو جائے اور کھجور پر سے پکا ہوا پھل بھی گرے اور مناسب خوراک کا بھی انتظام ہو جائے۔اور پھر فرشتہ کے ذریعہ سے پانی کے چشمہ سے بھی مطلع فرمایا۔چنانچہ جیسی غذا کی اور جن ہدایات کی ایسے مواقع پر ضرورت ہوتی ہے خدا تعالیٰ نے وہ غذا بھی مہیا فرمائی اور وہ ہدایات بھی ارشاد فرمائیں۔ان تمام تفصیلات کے بیان کرنے کی غرض یہ ہے کہ تا یہ بتلایا جائے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش عام طریق سے ہوئی ہے اور اسی طرح جس طرح خواتین کو پیدائش کے وقت میں اور خصوصاً پہلی پیدائش کے وقت میں نسبتا زیادہ تکلیف ہوا کرتی ہے۔یہ تکلیف حضرت مریم کو بھی ہوئی تھی اور اس کی وجہ سے آپ بہت بے قرار اور بے چین بھی ہوئی تھیں۔تب اللہ تعالیٰ نے جو کہ حقیقی مونس و غمخوار ہے آپ کی تکلیف کو کم کرنے اور مشکلات کو آسان بنانے کا طریق سمجھایا۔اور لوگوں کے بے سروپا سوالات جو ایسے موقع پر ہوا کرتے ہیں ( مثلاً یہ کہ یہ کس کا بچہ ہے؟ تم لوگ کس علاقہ کے رہنے والے ہو؟ یہاں کیوں آئے ہو؟ وغیرہ وغیرہ) سے بچنے کیلئے چپ کا روزہ رکھنے کی تاکید فرمائی۔جس میں صرف ضروری بات کی جائے اور یہ کہ خاموشی اختیار کرنے سے ایسے موقع پر قوت بھی کافی بحال ہو جایا کرتی ہے۔