حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 27
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل تھے اور انہوں نے انہیں مکمل طور پر رد کر دیا تھا۔(Epifihancius:Hoer) 27 چنانچہ ابیونی فرقہ کے عیسائی متی کو کو خصوصاً محترف مبدل خیال کرتے تھے۔جس کے ثبوت کے طور پر وہ اس بات کے دعوی دار تھے کہ متی کی اصل عبرانی انجیل ان کے پاس موجود ہے۔متی کا نسب نامہ تاریخی حقائق کے اعتبار سے زیادہ تختہ مشق بنا ہے۔اور لوقا کا نسب نامہ کسی حد تک درست تسلیم کیا گیا ہے۔لیکن اگر درست بھی تسلیم کیا جائے تو یہ ہے تو یوسف مجا رہی کا نسب نامہ جو کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا ہر گز نہیں ہو سکتا۔کیونکہ قرآن کریم اور ا نا جیل دونوں ماخذ ہی اس بات پرسو فیصدی متفق ہیں کہ حضرت یسوع ناصری بے باپ کے پیدا ہوئے تھے۔قرآن کریم فرماتا ہے: يَأَهْلَ الْكِتَبِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ ، إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُوْلُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ : أَلْقَهَا (سورة النساء: آیت ۱۷۲) إِلَى مَرْيَمَ وَرُوْحٌ مِّنْهُ ترجمہ: اے اہل کتاب تم دین کے معاملہ میں غلو سے کام نہ لو اور اللہ کے متعلق سچی بات کے سوا کچھ نہ کہا کرو۔مسیح عیسی ابن مریم ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ایک رسول ہیں اور اسکی ایک بشارت ہیں جو اس نے مریم پر نازل کی تھی۔اور اس کی طرف سے ایک رحمت ہیں۔انا جیل میں پیش کردہ نسب ناموں میں بدقسمتی سے چار ایسی خواتین کا بھی ذکر ہے جن کا کردار از روئے بائیل ایسا نہیں ہے کہ وہ کسی طرح مسیح علیہ السلام کے لئے قابل فخر ہو سکیں۔چنانچہ تم ، راحاب، روت اور اور یا کے متعلق بائیل میں لکھا ہے : اور یوں ہوا کہ قریب تین ماہ کے بعد یہوداہ سے کہا گیا ہے تیری بہو تمر نے زنا کیا اور دیکھ اسے چھنالے کا حمل بھی ہے۔یہوداہ بولا اسے باہر لا کہ وہ جلائی