حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 246
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - 246 بوجہ بے باپ ہونے کے بے نصیب ہو گئے۔اور وہ خود بھی اپنے متعلق کہتے ہیں کہ نیک تو کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا پر اگر تو زندگی میں داخل ہونا چاہتا ہے تو حکموں پر عمل کر۔(متی باب ۱۹ آیت ۱۶-۱۷) نیز اس طرح خود مسیح علیہ السلام بھی اپنے کو صلیبی موت سے بچانا چاہتے تھے جیسے کہ بائییل معلوم ہوتا ہے اگر وہ آپ کفارہ کی غرض سے دنیا میں آئے تھے تو پکڑوانے والے یہود اسکر یوطی کو تو انعام ملنا چاہئے تھا۔لیکن آپ تو خود یہ دعاما نگتے رہے کہ : اے میرے باپ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے ٹال دے۔(متی باب ۲۶ آیت ۳۹) اگر وہ گناہ گاروں کے گناہ اٹھانے آئے تھے تو روروکر اور سجدوں میں گر کر اس موت سے بچنے کی دعانہ کرتے اور نہ حواریوں کو اس کے لئے دعا کرنے کو کہتے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک انکاری شخص کو ز بر دستی اور ظلماً صلیب پر چڑھا کر کفارہ کی غرض سے مارڈالنا کہاں کا انصاف ہے۔بقول انا جیل آپ نے کہا: ايلى ايلى لما شبقتني 66 ( متی باب ۲۷ آیت (۴۶) اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ہے۔اگر خدا کی رضامندی یہی تھی تو آپ کو رضامند ہو جانا چاہئے تھا۔مگر ایسا نہیں ہوا اور آپ نے شکوہ شروع کر دیا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کفارہ کا تانا باناسب غلط اور خود تراشیدہ عقیدہ ہے۔آپ اس غرض کے لئے تشریف نہیں لائے تھے۔پھر آپ صلیب پر فوت بھی نہیں ہوئے۔آپ نے واقعہ ء صلیب کو حضرت یونس نبی کے واقعہ سے مشابہت دی ہے۔اور آپ نے کہا ہے کہ اس زمانہ کے بدکاروں کو یونس نبی کے سوا کوئی