حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 216
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 216 متن میں سے یہ آیات خارج کر کے حاشیہ پر درج کر دی ہیں اس سلسلہ میں جان ولیم برگن کی تحقیقات یہ ہیں کہ انجیل مرقس کے باب آٹھ کی آٹھویں آیت کے بعد یونانی لفظ Teaos یعنی ختم شدہ لکھا ہوا تھا۔(The Revision, Revised by J۔W۔Burgon B D Dean of Chichoster (510 page 1883 مطبوعہ 1883 J۔Murray مشہور سکالرسی آرگریگوری نے لکھا ہے کہ : فریڈرک کارن والس کان بیر کو ایک قدیمی آرمینی نسخہ ملا ہے جس میں مرقس کی ان آیات کو پر بسٹر ارسٹن کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور ان کا مصنف مرقس نہیں ہے۔“ دوسری طرف انہیں ایک انجیل مرقس کا نسخہ کوہ اتھ اس سے ملا ہے اس میں آخر میں لکھا ہے: اس کے بعد یسوع خود بھی مشرق سے ظاہر ہوا اور اس نے لوگوں کے ذریعہ مغرب تک مقدس بے عیب اور دائمی نجات کے پیغام کو پہنچایا۔آمین۔“ (Canan and the Text of the New Testament by C۔R۔Gregory page 511۔Published by T & T Clark, Edinburgh 1970) مذکورہ بالا دلائل اور انکشافات جدیدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کا صلیب پر مارا جانا اور مر کر دوبارہ زندہ ہونا ایک افسانہ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔چنانچہ ایسی کمزور بنیاد پر الوہیت مسیح کی عمارت تعمیر کرنا، دور اندیشی اور عقلمندی نہیں ہو سکتی بلکہ حقیت یہ ہے کہ آپ صلیب سے زندہ اتارے گئے اور علاج کے بعد تندرست ہوئے اور پھر مشرقی ممالک کی طرف ہجرت کر گئے۔آپ کا مقبرہ سرینگر محلہ خانیار میں موجود ہے اور یہ کشمیر کا دارالخلافہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی جماعت احمدیہ نے اپنی کتاب ” مسیح ہندوستان میں بہت سے عقلی اور نقلی دلائل و براہین درج فرمائے ہیں اور ان تاریخی شواہد کے ساتھ ساتھ انا جیل سے ہمیں ایسے بیانات بھی ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام اس فانی جسم کے ساتھ آسمان پر نہیں