حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 200
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل ”خدا سب کے اوپر اور ابد تک محمود ہے“ 200 گویا اس آیت کا صحیح ترجمہ کر کے الوھیت کا ذکر اس میں سے نکال دیا گیا ہے چنانچہ یہ اقتباس بھی سند نہ رہا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسیح سے دعامانگی گئی اس لئے وہ خدا ٹھہرا۔اور اس کی تائید کیلئے عیسائیت کے پہلے شہید سٹیفن کا ذکر کرتے ہیں کہ اس نے کہا ”اے خداوند یسوع میری روح کو قبول کر پھر اس نے گھٹنے ٹیک کر بڑی آواز سے پکارا۔” اے خداوند یہ گناہ ان کے ذمہ نہ لگا سٹیفن شہید نے مرتے وقت عاشقانہ رنگ میں محبت کا اظہار کیا ہے۔واضح طور پر مسیح سے یہاں دعامانگنے کا کوئی ذکر نہیں ہے اس کے بالمقابل مسیح علیہ السلام کے دعامانگنے کا ذکر بڑے واضح رنگ متعدد بار نئے عہد نامے میں مذکور ہے پس جس سے دعا مانگی بھی گئی ہو تو وہ خود بھی دعا مانگنے کا محتاج ہے؟ چہ جائیکہ دعاسن کر قبول کرے اور اس بات کا بھی ثبوت درکار ہے کہ سٹیفن شہید نے مسیح علیہ السلام کو خداوند کن معنوں میں کہا تھا۔کیا ان معنوں میں نہیں کہا ہوگا جن معنوں کی تخصیص یسوع نے خود کر دی تھی۔اور ابتدائی حواری اسے اچھی طرح پہنچانتے تھے۔اور انہی معنوں میں سٹیفن شہید کی بھی مراد تھی نہ کہ حقیقی خدا کے معنوں میں کہنا مراد تھی۔۔۔۔متی کی انجیل میں لکھا ہے کہ : در مسیح کی پیدائش کے موقع پر یسعیا باب 8 آیت 8 کی وہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ دیکھو ایک کنواری حاملہ ہوگی اور بیٹا بنے گی اور اس کا نام عمانویل رکھیں گے۔“ ( متی باب ۱۰ آیت ۲۳) بعض عیسائی اس سے یہ استنباط کرتے ہیں کہ اس میں الوہیت مسیح کا ذکر ہے حالانکہ اگر عمانویل مسیح کا نام اور مسیح کی صفت تھی تو اس کا مفہوم یہ ہوا کہ خدا مسیح کے ساتھ ہے اور یہ کوئی ثبوت الوہیت نہیں بلکہ اس سے الوہیت مسیح کی تردید ہوتی ہے کیونکہ مسیح اور خدا دوالگ الگ وجود قرار