حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 192 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 192

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔اس نے اسے ان معنوں میں خدا کہا۔چنانچہ تو رات میں لکھا ہے کہ میں نے تجھے فرعون ( خروج باب ۷ آیت ۱) 192 کیلئے گویا خدا ٹھہرایا۔اور اس کے ساتھ ہی موسیٰ کو اپنا ایک کا بہن اور پیغمبر دے دیا چنانچہ ہارون کے متعلق لکھا ہے: تیرا بھائی ہارون تیری طرف سے فرعون سے مخاطب ہوگا فرعون کیلئے تو بطور خدا کے ہے مگر ہارون تیرا تر جمان ہے۔“ خروج باب ۴ آیت ۱۶) اسی طرح کتاب مقدس میں لکھا ہے : تم اپنے خدا وند خدا کے بیٹے ہو۔“ ہوسیع باب ا آیت ۱۱، استثناء باب ۱۴ آیت ۱) اور سلیمان کے متعلق اس نے کہا : گا۔” وہ میرے لئے بطور بیٹے کے ہوگا۔اور میں اس کے لئے بطور باپ کے ہوں ( ۲ سموئیل باب ۷ آیت ۱۴) پس ہم ان معنوں میں مسیح کو جن کے ذریعہ ہم نے خدا پایا خدا کا بیٹا کہتے ہیں جن معنوں میں اسرائیل کے متعلق لکھا ہے کہ وہ میرا پلوٹھا بیٹا ہے۔(خروج باب ۴ آیت ۲۲) اور سلیمان کے متعلق لکھا ہے وہ میرے لئے بطور ایک بیٹے کے ہوگا۔ہم اسے انہی معنوں میں خدا کہتے ہیں جن معنوں میں موسیٰ کو خدا کا نام دیا گیا۔مزید برآں خدا کا لقب اس دنیا میں سب سے بڑا اعزاز ہے اور یہ اعزاز اللہ تعالیٰ اپنے اُن خاص الخاص بندوں کو عطا کرتا ہے جن کو چن لیتا ہے۔(184 The Origins of Christianity page مطبوعہ لندن ) اس حوالے سے پتہ لگتا ہے کہ ابتدائی صدیوں میں عیسائی فرقے حضرت مسیح کو انہی معنوں میں ابن اللہ اور خدا کہتے تھے جن معنوں میں تو رات میں خدا کے فرستادوں اور فنافی اللہ وجودوں کو خدا اور ابن خدا کے لقب سے یاد کیا گیا ہے لیکن غیر قوموں سے آئے ہوئے عیسائی مشرکانہ عقائد کے زیر اثر حضرت