حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 181 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 181

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل اور یسعیا باب ۱۴۲ آیت ۱۹ تا ۲۱ میں آیا ہے: ” میر ا رسول جسے میں بھیجوں گا۔وہ کامل ہے۔وہ شریعت کو بزرگی دے گا اور اسے عزت بخشے گا پھر مسیح علیہ السلام نے فرمایا: میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لئے فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو مددگار تمہارے پاس نہ آئے گا لیکن اگر میں جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا۔“ 181 ( یوحنا بات ۱۶ آیت ۷ ) از روئے لغت مددگار" کے لفظ کے ، جو یہاں استعمال ہوا ہے ، کئی معنی کئے جاتے ہیں۔مثلاً : شفیع ، وکیل، تسلی دینے والا ، روح حق ، معلم، مالک، حامی مبین ، واعظ۔لیکن ڈاکٹر سیل اس کا معنی ستودہ کرتے ہیں جس کا ترجمہ عربی میں ”احمد بنتا ہے۔چنانچہ ابتداء میں انجیل یوحنا کا عربی زبان میں ترجمہ ہوا تو اس میں ” فار قلط‘ کا ترجمہ ”احمد“ کیا گیا جس کا اعتراف سرولیم میور نے اپنی کتاب 'لائف آف محمد ص ۷ جلد ایک میں کیا ہے اور قرآن کریم میں اس پیشگوئی کو با ایں الفاظ بیان کیا گیا ہے: وَمُبَشِّرً ا بِرَسُولٍ يَّأْتِي مِنْ بَعْدِى اسْمُهُ أَحْمَدُ (سورة الصف : آیت ۷) ترجمہ: اور ایک ایسے رسول کی بھی خبر دیتا ہوں جو میرے بعد آئے گا ، جس کا نام احمد ہوگا۔اور غزل الغزلات باب ۵ آیت ۱۰ تا ۱۶ میں حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے محبوب افضل الرسل حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بتاتے ہوئے آپ کے اسم مبارک کا یوں