حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 169
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل اور دیکھو یروشلم میں شمعون نام ایک آدمی تھا اور وہ آدمی راستباز اور خدا ترس اور اسرائیل کی تسلی کا منتظر تھا اور روح القدس اس پر تھا۔اور اس کو روح القدس سے آگاہی ہوئی تھی کہ جب تک تو خداوند کے مسیح کو دیکھ نہ لے موت کو نہ دیکھے گا۔“ پھر لکھا ہے: 169 (لوقا باب ۲ آیت ۲۵-۲۶) ” اس علاقہ میں چرواہے تھے۔۔۔اور خداوند کا فرشتہ ان کے پاس آکھڑا ہوا۔۔۔۔۔اور اس نے ان سے کہا دیکھو میں تمہیں بڑی خوشی کی بشارت دیتا ہوں جو ساری امت اسرائیل کے واسطے ہو گی کہ آج داؤد کے شہر میں تمہارے لئے ایک منجی پیدا ہوا ہے (یعنی مسیح) (لوقا باب ۲ آیت ۱۱) پھر لکھا ہے کہ جب بادشاہ ہیرود لیس نے فقیہوں اور فریسیوں سے پوچھا کہ مسیح کی پیدائش کہاں ہونی چائے ؟ تو انہوں نے میکاہ باب ۵ آیت ۲ کی پیشگوئی کے مطابق بتایا کہ نبی کی معرفت یوں لکھا ہے کہ: ”اے بیت لحم کے یہودہ کے علاقے تو یہودہ کے حاکموں میں سے ہرگز چھوٹا نہیں کیونکہ تجھ میں سے ایک سردار نکلے گا جو میری امت اسرائیل کی گلہ بانی کرے گا۔“ انا جیل کے مذکورہ بالا حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آنے والے مسیح کے متعلق یہی سمجھا جاتا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کیلئے ہی نجات دھندہ ہو گا ان کی گلہ بانی کرے گا۔حضرت یحییٰ علیہ السلام نے بھی یہی فرمایا اور بزرگ شمعون نے بھی یہی بتایا۔یہی چرواہوں کو خدا کے فرشتہ نے بتایا اور یہی اس وقت کے فریسی اور فقیہ بھی سمجھتے تھے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کے متعلق حضرت مسیح علیہ السلام کا اپنا دعویٰ کیا تھا چنانچہ اس کے متعلق انا جیل نے مندرجہ ذیل معلومات مہیا کی ہیں۔آپ نے فرمایا: