حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 148
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔ترجمہ: تو کہتا چلا جا کہ دراصل اللہ اپنی ذات میں اکیلا ہے اور اللہ وہ ہستی ہے جس کے سب محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔اور اس کی صفات میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں۔پھر فرماتا ہے: وَقَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا : سُبْحَنَهُ ، بَلْ لَّهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلٌّ لَّهُ قَنِتُوْنَ ٥ بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُوْلُ لَهُ كُنْ فَيَكُوْنُ۔148 (سورة البقره آیت ۱۱۸۔۱۱۷) ترجمہ: اور وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے بیٹا بنا رکھا ہے۔حالانکہ وہ پاک ہے اور اسی کا ہے جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے اور ہر ایک اسی کا پورا پورا فرما بردار ہے۔وہی ذات ہے جو زمین و آسمان کو ابتدا پیدا کرنے والی ہے اور جب کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ایسا ہو جائے ویسا ہی پس ہو جاتا ہے۔پھر فرماتا ہے: سُبْحَنَهُ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ۔وَكَفَى بِاللَّهِ وَكِيلاً ه (سورة النساء: آیت ۱۷۲) ترجمہ: وہ اس بات سے پاک ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو۔جو کچھ کہ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کا سب اسی کا ہے اور اللہ ہی اکیلا کارساز ہے۔پھر فرماتا ہے: وَخَرَقُوْا لَهُ بَنِيْنَ وَبَنْتِ بِغَيْرِ عِلْمٍ سُبْحَنَهُ وَتَعَلَى عَمَّا يَصِفُوْنَ ٥ بَدِيعُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ، أَنَّى يَكُوْنُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُنْ لَّهُ b