حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 135 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 135

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔135 میرے ذریعہ سے دوبارہ اس کو جاری کیا گیا ہے۔اس آیت کریمہ سے شاید کسی کو غلط نہی ہو کہ آپ شریعت کے بعض حصوں کو منسوخ کرنے آئے تھے تو دراصل بات یہ ہے کہ یہودیوں نے شریعت کو نہ سمجھنے کے نتیجہ میں اپنے گلے میں بہت سے طوق بدعات کے ڈال لئے تھے آپ نے خدا تعالیٰ کی وحی اور اس کی راہنمائی کے نتیجہ میں ان طوق اور اغلال کو دور کیا اور آپ کے ماننے والے پھر خدا تعالیٰ کی شریعت کے حکموں کی صحیح حکمت کو سمجھتے ہوئے مجاہدات کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر کے اس کے کلام اور الہام کے مورد ہو گئے جیسا کہ قرآن کریم میں لکھا ہے: وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِينَ أَنْ أَمِنُوْابِيْ وَبِرَسُوْلِي، قَالُوا آمَنَّا وَاشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ (سورة المائدة: آیت ۱۱۲) چنانچہ انجیل میں بھی حضرت مسیح علیہ السلام نے پطرس کے متعلق کہا: ظاہر کی۔“ یہ بات گوشت اور خون نے نہیں بلکہ میرے باپ نے ، جو آسمان پر ہے، تجھ پر ( متی باب ۱۶ آیت ۱۷) پس الہام اور وحی کا انعام آپ کے ماننے والوں میں جاری فرمایا گیا (یا حلال کیا گیا) جو یہودیوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے اُن پر حرام ہو گیا تھا۔( یعنی ان سے روک دیا گیا تھا) انجیل کے بعض مقامات سے بھی یہ استنباط کیا جاتا ہے کہ آپ نے شریعت کو منسوخ کیا حالانکہ آپ نے اصل حکم کہیں بھی منسوخ نہیں فرمایا بلکہ اس حکم کے ارد گرد جنگلہ ( سیاج ) لگا دیا تا کہ حکم کی روح پر آنچ نہ آئے اور صرف ظاہر الفاظ کی اندھی تقلید نہ ہو جیسے یہودی فقہ میں یہ رواج چل نکلا تھا۔چنانچہ پیکس کی شرح بائیل میں پہاڑی وعظ کے بارے میں لکھا ہے : "Here is not a new law and not a new Moses but a messianic intensification, producing the true rightiousness which belongs to the kingdom۔" از پرنسپل اے جی گریوایم اے مطبوعہ 1962 Thomas Nelson & Sons Ltd۔London)