حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 110
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل (۴) ” جب یسوع قیصر یہ قلیمی کے علاقہ میں آیا تو اس نے اپنے شاگردوں سے یہ پوچھا کہ لوگ ابن آدم کو کیا کہتے ہیں۔انہوں نے کہا بعض یوحنا بپتسمہ دینے والا کہتے ہیں۔بعض ایلیاہ بعض بر میاہ یا نبیوں میں سے کوئی۔اس نے ان سے کہا مگر تم مجھے کیا کہتے ہو! شمعون پطرس نے جواب میں کہا تو زندہ خدا کا بیٹا مسیح ہے۔یسوع نے جواب میں کہا مبارک ہے تو شمون بر یونا کیونکہ یہ بات گوشت اور خون سے نہیں بلکہ میرے باپ نے جو آسمان پر ہے تجھ پر ظاہر کی ہے۔اور میں بھی تجھ سے کہتا ہوں کہ پطرس ہے اور میں اس پتھر پر کلیسیا بناؤں گا اور عالم ارواح کے دروازے اس پر غالب نہ آئیں گے میں آسمان کی بادشاہی کی کنجیاں تجھے دوں گا۔اور جو کچھ تو زمین پر باندھے گا وہ آسمان پر بندھے گا۔اور جو کچھ تو زمین پر کھولے گا وہ آسمان پر کھلے گا۔اس وقت اس نے اپنے شاگرد کو حکم دیا کہ سی کو نہ بتانا کہ میں مسیح ہوں۔“ 110 (متی باب ۱۶ آیات ۱۳ تا ۲۰) انا جیل کے ان اقتباسات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مسیح ہی کہا گیا ہے۔صرف متی نے ” خدا کا بیٹا' کے الفاظ زائد کئے ہیں۔اناجیل سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے غیر یہودیوں میں آپ کا لقب بطور مسیح کے ہی معروف تھا۔اپنے پرائے بھی آپ کو مسیح ہی خیال کرتے تھے گویا ملک وقوم اور حاکم تک یسوع کی شہرت بطور مسیح اور نبی کے تھی جیسا کہ لکھا ہے: پیلاطوس نے ان سے کہا۔پھر یسوع کو جو مسیح کہلاتا ہے میں کیا کروں۔“ (متنی باب ۱۲۷ آیت ۲۲) تب انہوں نے (یہود نے ) اس (یسوع) کے منہ پر تھوکا اور اس کو مارا اور کہا اے مسیح ہمیں نبوت سے بتا کہ کس نے تجھ کو مارا۔“ متی باب ۲۶ - آیات ۷ ۶ تا ۶۸)