حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 61
61 شہر کر پوچھا کرتے ہیں کہ آپ کہاں اترے ہیں۔اور اس بول چال میں کوئی بھی یہ خیال نہیں کرتا کہ یہ شخص آسمان سے اترا ہے۔اگر اسلام کے تمام فرقوں کی حدیث کی کتابیں تلاش کرو تو صحیح حدیث تو کیا وضعی حدیث بھی ایسی نہیں پاؤ گے جس میں یہ لکھا ہو کہ حضرت عیسیٰ جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے ہیں اور پھر کسی زمانہ میں زمین کی طرف واپس آئیں گے۔اگر کوئی ایسی حدیث پیش کرے تو ہم ایسے شخص کو بیس ہزار روپیہ تک تاوان دے سکتے ہیں۔اور تو بہ کرنا اور اپنی تمام کتابوں کا جلا دینا اس کے علاوہ ہوگا۔“ حضرت اقدس کے اس چیلنج کو آج ساٹھ سال (اب تو سوسال ہونے کو ہیں۔ناقل ) سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے۔حضرات علماء نے ہزار ہا کتب کا مطالعہ کرنے کے بعد حیات مسیح کے مسئلہ پر سینکڑوں کتا میں لکھی ہیں لیکن کسی صاحب کو آج تک یہ تو فیق نہیں ہوسکی کہ حضور کے اس چیلنج کو قبول کر کے کوئی ایسی حدیث پیش کرتے جس میں جسم عنصری کے ساتھ حضرت مسیح کے آسمان پر جانے اور اترنے کا ذکر ہوتا۔(حیات طیبہ صفحہ 186) کیا یہ سیدنا حضرت مسیح موعود کے علم لدنی اور قلم کا اعجاز نہیں کہ وہ علماء جنہوں نے گزشتہ سوسال میں سینکڑوں، ہزاروں کتب اور رسائل میں حیات مسیح “ ثابت کرنے کے لئے سعی لاحاصل کی ، ایک آیت یا ایک حدیث بھی متذکرہ بالا چینج کے مطابق پیش نہ کر سکے جس میں لفظ ” آسمان سید نا حضرت مسیح ناصری کے صعود ونزول