حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد

by Other Authors

Page 60 of 71

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 60

نزول فرما دیں گے۔60 خدا تعالیٰ نے الہاما سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خبر دی کہ اس عقیدہ کا قرآن وحدیث سے کوئی تعلق نہیں اور اس سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی کسرشان ثابت ہوتی ہے۔چنانچہ آپ نے بحیثیت کا سر صلیب حضرت مسیح ناصری کی طبعی وفات سے متعلق عقلی اور نقلی دلائل اس کثرت سے پیش فرمائے کہ آج عرب اور غیر عرب اسلامی ممالک کے فہیم علماء اور سکالرز کی بھاری تعداد آپ کے صعود جسمانی کے عقیدہ کو ترک کر چکی ہے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 24 /جنوری 1898ءکو اپنی تصنیف لطیف " کتاب البریہ میں علماء اسلام کو مخاطب کرتے ہوئے 20 ہزار روپے کا انعامی چیلنج دیا۔واضح رہے کہ اس زمانہ کے 20 ہزار روپے ایک خطیر رقم تھی۔حضور نے فرمایا:۔پھر اگر پوچھا جائے کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے جسم عصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے تھے؟ تو نہ کوئی آیت پیش کر سکتے ہیں اور نہ کوئی حدیث دکھلا سکتے ہیں۔صرف نزول کے لفظ کے ساتھ اپنی طرف سے آسمان کا لفظ ملا کر عوام کو دھوکا دیتے ہیں۔مگر یاد رہے کہ کسی حدیث مرفوع متصل میں آسمان کا لفظ پایا نہیں جاتا اور نزول کا لفظ محاورات عرب میں مسافر کے لئے آتا ہے اور نزیل مسافر کو کہتے ہیں۔چنانچہ ہمارے ملک کا بھی یہی محاورہ ہے کہ ادب کے طور پر کسی وارد