حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد

by Other Authors

Page 43 of 71

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 43

43 انہوں نے کتنی تعداد بتائی۔۔۔۔۔دراصل جب آپ زیورچ سے مری تشریف لائے تھے تو ڈاکٹروں کی ایک کھیپ نے اپنا وقت آپ کی خدمت کے لئے وقف کر دیا تھا پھر آپ نے چند ڈاکٹروں کا نام لے کر حکم فرمایا کہ۔وو یہ ڈاکٹر آج سے مولانا ظفر علی خان کا علاج کریں گے۔۔۔جاؤان سے کہہ دو کہ فورا مولانا کو جا کر دیکھیں۔۔۔۔جس دوائی کی ضرورت ہو وہ بازار سے خرید ہیں۔جو دوائی مری سے نہ ملے اسے میری موٹر لے کر پنڈی سے لائیں علاج کا سارا خرچہ میں ادا کروں گا۔“ میرے منہ سے یہ ارشاد سنتے ہی نکلا۔اللہ اکبر۔الحمد للہ جب تک مولا نا بیمار ہیں یہ سب ان کی تیمار داری کریں گے۔ان کے آرام کا خیال رکھیں گے، سبحان اللہ۔۔۔اب تم میری فکر نہ کرو بلکہ مولانا کا دھیان رکھو۔۔۔بے شک یہ ظرف خدائے دو جہاں صرف اپنے خاص بندوں کو عطا فرماتا ہے۔اپنے مرشد و آقا کی خدمت کے لئے آئے ہوئے ڈاکٹر یہ حکم سنتے ہی فورا مولانا ظفر علی خان کی خدمت میں پہنچ گئے کچھ دوائیاں دیں پھر کچھ انجیکشن لگائے اور اس وقت تک وہاں سے نہ ہلے جب تک آپ کی طبیعت نہ سنبھل گئی جب دوسری صبح ڈاکٹروں کی یہ ٹیم بعض احمدی حضرات کے ساتھ مولانا کی کوٹھی کی طرف چلی تو میں بھی ساتھ ہولیا۔مولا نا حسب سابق تن تنہا ایک کرسی پر جس کے چاروں طرف ایک پٹی بندھی ہوئی تھی سر لٹکائے بیٹھے تھے منہ سے رالیں گر رہی تھیں پاجامہ پاخانے سے بھرا ہوا تھا