حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 39
39 وو۔۔۔۔میں ان کو ٹھیوں کا افسر انچارج ہوں اور میرا فرض ہے کہ ایسے وقت میں آپ کی خدمت کروں اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا تکلف ارشاد فرمائیں۔“ محترمہ نے کچھ کرسیوں، ایک سونے کا پلنگ ، کموڈ اور دریوں کا مطالبہ فرمایا جو فورا پورا کر دیا گیا۔اس کے بعد ایک بار پھر میں نے عرض کیا کہ جس وقت بھی کسی چیز کی ضرورت پڑے بلا تکلف مجھے حکم بھجوادیا جائے اور میں چوکیدار کو خاص طور پر ہدایت کر کے واپس اپنے دفتر آ گیا کہ وہ مولا نا اور ان کی فیملی کا خاص خیال رکھے۔عبرت کی جا۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس کوٹھی میں میری رہائش تھی وہ کا شیج، پہاڑی کے اوپر واقع تھا اور سامنے مولانا کی کوٹھی تھی درمیان میں سڑک تھی میں ہر روز صبح دفتر جاتے ہوئے مولانا کی مزاج پرسی کرتا، گھر سے کسی ضرورت کے بارے میں دریافت کرتا، دفتر سے واپسی پر بھی میرا یہی معمول تھا میں نے ہی نہیں سینکڑوں ( بلکہ ہزاروں بھی کہوں تو جھوٹ نہ ہوگا ) افراد نے دیکھا کہ مولانا کو ان کا ایک نوکر ( جو غالبا پٹھان تھا ) ہر روز صبح کوٹھی کے لان میں کرسی پر بٹھا دیا کرتا تھا اور کرسی کے ساتھ لگی پیٹی مولانا کی کمر سے باندھ دیتا تھا تا کہ مولانا بے ہوشی یا نیم بے ہوشی میں کرسی سے گر نہ پڑیں۔مولانا غروب آفتاب تک اسی لان میں کرسی پر تن تنہا پڑے رہا کرتے اور کبھی کسی نے ان کے پاس گھر کا آدمی تو کیا خدمت گار بھی نہ دیکھا۔