حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد

by Other Authors

Page 32 of 71

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 32

32 کے جہاد میں مصروف رہے۔کیا جہاد بالسیف کو جہاد اصغر قرار دینے کا اس سے بڑا کوئی ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے؟ سید نا حضرت مسیح موعود کے اسلوب جہاد نے آپ کے ماننے والوں میں کیسی پاک تبدیلی پیدا کی اور گزشتہ 100 سال میں جماعت احمدیہ نے کیسی شاندار تاریخ رقم کی یہ داستان بڑی دردناک اور بہت دل آویز ہے۔جان دینا بہت مشکل کام ہے جبکہ اس کے مقابل پہ جان لینا بہت آسان ہے۔1904ء میں سیدنا حضرت مسیح موعود کے سفر سیالکوٹ میں حضور کے ہم سفر حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی بھی تھے۔بوڑھے کمزور اور منحنی جسم۔آپ باقی ساتھیوں سے بچھڑ کر پیچھے رہ گئے۔مخالف علماء نے آپ کو نرغہ میں لے لیا۔زمین پر گرا کر اپنی دانست میں یوں رسوا کرنا چاہا کہ آپ کے منہ میں گوبر ڈال دیا۔حضرت مولوی صاحب نے نعرہ مستانہ مارا اور فرمایا او برھانا ! ایہ نعمتاں کتھوں یعنی اے برہان الدین یہ نعمتیں روز روز اور ہر شخص کو کہاں نصیب ہوتی ہیں۔الفضل 29 / مارچ 2003ءصفحہ 4) ย 14 / جولائی 1903ء کو حضرت صاحبزادہ عبداللطیف کا بل میں شہید کئے گئے۔آپ کے 50 ہزار جاں نثار مرید موجود تھے۔آپ نے کسی کو حکومت کے خلاف بغاوت کی تحریک نہ فرمائی۔قادیان سے رخصت ہوئے تو فرمایا مجھے بار بار الہام ہوا کہ سرزمین کابل کے لئے اپنے سر کی بازی لگا دو۔سید نا حضرت مسیح موعود نے فرمایا :۔