حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 28
28 خود مہدی ہونے کے دعویدار ہیں اس لئے لازماً کسی دوسرے مہدی کی آمد کے منکر ہوں گے چنانچہ انہوں نے نہایت شدومد کے ساتھ اپنے مخصوص انداز میں ایسے شخص کے بارہ میں فتویٰ دیا کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ، کافر ، دجال، بے ایمان، مفتری، کذاب جہنمی ، ضال اور فضل ہے۔ان فتویٰ صادر کرنے والوں میں شیخ الکل مولانا نذیر حسین دہلوی، مولوی عبدالجبار غزنوی، مولوی عبد الحق غزنوی، مولوی احمد اللہ امرتسری، مولوی عبد اللہ پروفیسر اور کمنٹل کالج لاہور، مولوی عبد العزیز لدھیانوی، مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی ، مولوی محمد یعقوب دہلوی اور دیگر نامدار علماء شامل تھے۔جب یہ فتویٰ شائع ہو گیا تو اس کے صرف 8 یوم بعد سید نا حضرت مسیح موعود نے 6 جنوری 1899 ء کو ضمیمہ اشتہار ہذا کے عنوان سے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی خط و کتابت شائع فرما دی جس میں انہوں نے حکومت کو یقین دلایا تھا کہ مہدی سے متعلق تمام حدیثیں جھوٹی ہیں کسی مہدی وہدی نے نہیں آنا اور نہ ہی اس نے حکومت کے خلاف جہاد کرنا ہے۔ایسی تمام احادیث غلط اور نا درست ہیں اور یقینی طور پر وضعی اور جھوٹی ہیں۔نمونہ کے طور پر اس کی چند سطور مع ترجمہ ہدیہ قارئین کی جاتی ہیں۔The following is a list of articles in the ishat-us-Sunnah wherein the illegality of rebellion against or opposition to the Govt۔and the true nature of jehad is explained۔