حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 27
27 کا خلاصہ یہ ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو دن رات مجالس میں خونی مہدی اور مسیح کی آمد کا پرچار کرتے نہیں تھکتے تھے اور پنجاب اور ہندوستان کے مولویوں کو بار بار یہ سبق دیتے تھے کہ مہدی معہود ضرور آئے گا اور وہ خلیفہ وقت اور صاحب السَيْف وَالْآمر ہوگا جو تلوار کے ساتھ دین کو پھیلائے گا۔لیکن انہوں نے در پردہ نہایت خیانت اور دروغ گوئی سے گورنمنٹ کو یقین دلایا کہ وہ اس مہدی کے آنے کے منکر ہیں جو بنی فاطمہ سے آئے گا اور کافروں سے لڑے گا۔چنانچہ انہوں نے 14 اکتوبر 1898ء کو خفیہ طور پر اپنے رسالہ اشاعت السنہ کا ایک ایڈیشن انگریزی میں نکالا جس میں گورنمنٹ کو مخاطب کر کے حضرت اقدس کے بارہ میں یہ لکھا کہ یہ شخص جو مدعی مہدویت ہے۔یہ مہدی سوڈانی سے بھی زیادہ خطر ناک ہے۔جب یہ طاقت پکڑ جائے گا تو گورنمنٹ سے ایسی ٹکر لے گا کہ مہدی سوڈانی گورنمنٹ کو بھول جائے گا۔گونمنٹ کو چاہئے کہ فورا اس شخص کو گرفتار کرے۔اور اپنی نسبت لکھا کہ میں چونکہ کسی ایسے مہدی کی آمد کا قائل نہیں ہوں اور ایسی تمام حدیثوں کو مجروح جانتا ہوں جن میں مہدی کی آمد کا ذکر ہے اس لئے میں اس کی مخالفت کرتا رہتا ہوں۔سیدنا حضرت مسیح موعود نے ان کی دوغلی اور منافقانہ حالت سے پردہ اٹھانے کے لئے 29 دسمبر 1898ء کو علمائے پنجاب اور ہندوستان سے ایک اشتہار کے ذریعہ فتویٰ طلب کیا کہ ایسا شخص جو مہدی کے وجود سے منکر ہو اس کے حق میں تمہارا کیا فتویٰ ہے؟ ہندوستان کے چوٹی کے علماء اس سے یہ سمجھے کہ چونکہ حضرت مرزا صاحب