حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 23
23 یارو جو مرد آنے کو تھا وہ تو آ چکا یہ راز تم کو شمس و قمر بھی بتا چکا اس تفصیل کا لب لباب یہ ہے کہ دینی اغراض کے لئے تبلیغ کیلئے ، اشاعت اسلام کے لئے، دین کے نام پر نہ کبھی سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار اٹھائی نہ اب اس کی اجازت ہے۔دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور جدال ہاں اسلام کی عزت و حرمت کیلئے ، اپنے وطن عزیز کی حفاظت کے لئے ، اپنی جان مال اور عزت کی حفاظت کے لئے ، دفاعی جنگوں سے اسلام منع نہیں کرتا لیکن اس کے لئے شرط ہے کہ دشمن پہل کرے۔وَهُمْ بَدَءُ وَ كُمْ أَوَّلَ مَرَّدٍ (سورة توب 13 : 9) اس کے لئے لازم ہے کہ آپ مظلوم ہوں ظالم نہ ہوں۔بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا (سورة الحجج 2: 40) اگر یہ شرائط پوری ہوں اور ایک واجب الاطاعت امام کے سایہ تلے آپ کو دفاعی جنگ لڑنا پڑے تو رب کائنات کا یہ وعدہ ہے کہ إِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ (سورة الحج40:2) ہاں ! جنگ کا آخری نتیجہ ثابت کرے گا کہ یہ جنگ آپ نے قرآن اور سنت کی غلامی میں کی ہے یا محض نفس کے تکبر اور انانیت اور دیگر دنیوی مفادات کی خاطر۔