حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 24
24 جماعت احمدیہ نے مادر وطن کی حفاظت کے لئے ہمیشہ صف اوّل کی قربانیاں پیش کیں۔لیکن وائے افسوس جو لوگ ہمیں مطعون کرتے تھے کہ ہم جہاد کو حرام قرار دیتے ہیں وہ یہ برداشت نہ کر سکے کہ احمدی مار دوطن کی حفاظت کریں۔وَاِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ اجمال اس تفصیل کی یہ ہے کہ کشمیر کی حفاظت کے لئے تقسیم ہند کے بعد جماعت احمدیہ نے رضا کارانہ طور پر فرقان فورس کے نام سے عظیم الشان قربانیاں پیش کیں اور سید نا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسیح ثانی کی تحریک پر ہزاروں احمدی نوجوان اپنے کاروبار چھوڑ کر محاذ جنگ پر گئے اور ان کی شہادتوں اور قربانیوں کا اعتراف افواج پاکستان کے کمانڈر انچیف اور دیگر ذمہ دار حکام نے کیا اور جماعت احمدیہ کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔یہ رضا کاروہ تھے جن کے تمام اخراجات جماعت احمدیہ نے برداشت کئے۔کسی کی تنخواہ حکومت سے وصول نہیں کی۔سیدنا حضرت خلیفہ ثانی نے اپنے کئی لخت جگر محاذ جنگ پر بھجوائے۔انہیں دنوں میں 14 جولائی 1948ء کو ان مخصوص حالات میں دفاع کشمیر کے ذیل میں حضرت خلیفہ ثانی نے ایک منظوم کلام میں ارشاد فرمایا ہو چکا ہے ختم اب چکر تری تقدیر کا سونے والے اٹھ کہ وقت آیا ہے اب تدبیر کا کاغذی جامہ کو پھینک اور آہنی زرہیں پہن وقت اب جاتا رہا ہے شوخی تحریر کا