حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 19
19 آپ کا یہ عقیدہ تھا اور جماعت احمدیہ آج بھی اس پر قائم ہے کہ ایک پرامن حکومت کے سائے تلے رہتے ہوئے جو آپ کو مکمل مذہبی آزادی دیتی ہو۔مذہب کے نام کی آڑ میں اسلام کی تبلیغ اور نفاذ کے لئے ، اس کے خلاف تلوار اٹھا کر جہاد کرنا قطعی طور پر حرام ہے۔دیکھیں براہین احمدیہ جلد 3 ٹائٹل پیج ، اب مطبوعہ 1882ء) سید نا حضرت مسیح موعود نے فتنہ وفساد پیدا کرنے کے لئے اسلام کے پاک نام اور جہاد کے مقدس فرض کو Exploit کرنے سے منع فرمایا۔چنانچہ آپ نے فرمایا:۔اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال اس شعر میں دین اور اب کے الفاظ میں حضرت مسیح موعود کا اُسلوب جہاد بیان کیا گیا ہے۔فرمایا کہ ہمارے دین کی اشاعت کے لئے جنگوں کی اجازت نہیں ہے۔اور یہ امر واقعہ ہے کہ دین کی اشاعت کیلئے حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی تلوار نہیں اٹھائی۔اسلام کی ساری جنگیں دفاعی تھیں۔ہاں جب دشمن نے تلوار کے زور سے اسلام کو مٹانا چاہا تو خدا تعالیٰ نے لمبے عرصہ کے بعد تلوار کا جواب تلوار سے دینے کی اجازت دی۔فرمایا دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال یعنی اب وہ حالات نہیں جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہجرت کے