حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد

by Other Authors

Page 10 of 71

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 10

10 خبر دینے کا ذمہ اٹھایا ہے، تو یہ مجموعہ حدیثوں کا اور تھوڑے عرصہ کے بعد بے شمار مخلوق کو مرتد کر دیتا۔ان حدیثوں نے تو ( یعنی خونی مسیح اور خونی مہدی کے بارہ میں وضعی اور من گھڑت حدیثوں نے۔ناقل ) اسلام کی بیخ کنی اور خطرناک ارتداد کی بنیا درکھ دی ہوئی ہے۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 121-17،120 /اکتوبر 1900ء) یہ تو ظاہر ہے جہادی علماء کو اقتدار اور حکومت کے لالچ نے اپنے مخصوص جہاد پر ابھارا۔ورنہ اسلام کے حقیقت افروز ، مقدس جہاد میں جلسے جلوسوں ، مار پیٹ اور دھرنوں کی کہاں گنجائش ہے۔اسلام کی مٹی پلید ہو تو ہوان جہادی علماء کو اس سے کچھ سروکار نہیں۔یہ علماء اپنے مخصوص مقاصد کے لئے مدرسوں کے معصوم طلبہ کو برین واش کر سے قتل و غارت گری پر ابھارتے ہیں۔ایسے ہی علماء کی انکمیت پر 17 1 اپریل 1900 ء کو علاقہ پشاور میں کسی سفاک پٹھان نے دو بے گناہ انگریزوں کو قتل کر دیا۔اس پر ایک مجمع میں سید نا حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا۔یہ جو دو انگریزوں کو مار دیا ہے۔یہ کیا جہاد ہے؟ ایسے نابکار لوگوں نے اسلام کو بدنام کر رکھا ہے چاہئے تو یہ تھا کہ ان لوگوں کی ایسی خدمت کرتا اور ایسے عمدہ طور پر اُن سے برتاؤ کرتا کہ وہ اس کے اخلاق اور حسن سلوک کو دیکھ کر مسلمان ہو جاتے۔“ مومن کا کام تو یہ ہے کہ اپنی نفسانیت کو کچل ڈالے۔لکھا ہے کہ