حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 4
4 جہادی علماء جو قتل مرتد قتل مرتد کہتے ہوئے کبھی تھکتے نہیں تھے۔انہوں نے یک دم U-TURN لیا اور ساری مشرقی اسلامی دنیا میں کیاٹی وی (T۔V) اور کیا ریڈیو کیا اخبارات اور کیا مسجد و منبر ومحراب ہر جگہ سے منادی ہونے لگی کہ اسلام تو ہے ہی صلح و آشتی کا مذہب ، اور مذہب بھائی چارہ کا نام ہے۔مذہب نہیں سکھا تا آپس میں بیر رکھنا اسلام کے تو معنی ہی امن، صلح اور سلامتی کے ہیں۔یہ وہ زبان تھی جو گزشتہ 100 سال سے جماعت احمد یہ انہیں سکھانے کے لئے ہزار جتن کر رہی تھی لیکن ان کی ایک ہی رٹ تھی کہ قادیانیوں اور مرزائیوں نے جہاد حرام قرار دے دیا ہے۔نیو یارک ٹریڈ سنٹر پر ایک ہی حملہ نے انہیں مجبور کر دیا کہ جماعت احمدیہ کے اُسلوبِ جہاد کے سامنے اپنی گردنیں خم کر دیں۔یہ ایک عجیب حیرت انگیز انقلاب تھا کہ جہاد کے مسلک سے متعلق مغربی دنیا تو پہلے ہی جماعت احمدیہ کے زندگی بخش پیغام سے متفق تھی۔اب ساری مشرقی اسلامی دنیا بھی اسی موقف کے ساتھ کامل اتحاد اور اتفاق کا اعلانیہ اظہار کرنے پر مجبور ہوگئی گویا جہاد کے نکتہ نظر سے کل عالم میں احمدی ہی احمدی آباد تھے۔یہ اعجاز تھا۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اُس مخصوص اُسلوب جہاد کا جس کی طرف آپ روز اول سے مسلمانوں کو متوجہ فرمارہے تھے۔اے کاش! امت مسلمہ نے جہاد کے مسئلہ پر مامور زمانہ حکم عدل اور وقت کے امام کی آواز پر کان دھرے ہوتے تو اُسے اُن دکھوں اور کرب میں سے گزرنا نہ پڑتا جس کی کسک آج مسلمان ہی نہیں غیر بھی محسوس کر رہے ہیں۔