حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد

by Other Authors

Page 49 of 71

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 49

49 نثر قدیم وجدید عرب سے یہ ثبوت پیش کر ے کہ کسی جگہ توفی کا لفظ خدا تعالیٰ کا فعل ہونے کی حالت میں ذوی الروح کی نسبت استعمال کیا گیا ہو۔وہ بجر قبض روح اور وفات دینے کے کسی اور معنی پر اطلاق پا گیا ہے یعنی قبض جسم کے معنوں میں بھی مستعمل ہوا ہے تو میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر اقرار صحیح شرعی کرتا ہوں کہ ایسے شخص کو اپنا کوئی حصہ ملکیت کا فروخت کر کے مبلغ ہزار روپیہ نقد دوں گا اور آئندہ اس کی کمالات حدیث دانی اور قرآن دانی کا اقرار کرلوں گا۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 602 تا605 مطبوعہ لنڈن ) یہ کتاب 1891ء میں لکھی گئی تھی لیکن اب تک ساری دنیا کے کسی عالم ، عرب یا غیر عرب کو یہ توفیق نہیں ملی کہ یہ چیلنج قبول کر کے کوئی ایک مثال ہی اس کے خلاف پیش کر سکے۔(حیات طیبہ صفحہ 87-88) 5۔حضرت مولوی غلام نبی صاحب خوشابی ایک واعظ خوش بیان پر ہیز گار اور جید عالم تھے۔مباحثہ لدھیانہ کی وجہ سے حضور کی مخالفت زوروں پر بھی وہ بھی اس مخالفت کی رو میں بہہ گئے اور حیات مسیح سے متعلق تقاریر کرنے لگے۔ہزاروں لوگ ان کی تقاریر سننے کے لئے جمع ہوتے اور حضرت مرزا صاحب کے خلاف شدید منافرت پھیلتی گئی۔ایک روز اُسی محلہ میں ان کی تقریر ہوئی جہاں حضور مقیم تھے۔اور تقریر کے بعد مولوی صاحب ہزاروں کے جلوس کے ساتھ چلنے لگے، عین حضور کے