حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 48
تو بہ کر لی۔48 3 مباحثہ لدھیانہ کے دوران موضوع زیر بحث یہ تھا کہ کیا قرآن کریم حدیث پر مقدم ہے یا حدیث قرآن کریم پر۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اہل حدیث تھے اور حدیث کو قرآن پر مقدم قرار دیتے تھے۔اور اسی کی رو سے حیات مسیح کو ثابت کرنے پر زور دے رہے تھے۔حضرت مسیح موعود نے جب بخاری کی یہ حدیث پیش فرمائی کہ جو حدیث معارض قرآن ہو وہ چھوڑ دی جائے اور قرآن کو لے لیا جائے اس پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے بڑے غصہ میں کہا کہ یہ حدیث بخاری میں نہیں ہے۔اور جو یہ حدیث بخاری میں ہو تو میری دونوں بیویوں پر طلاق ہے۔اس طلاق کے لفظ سے تمام لوگ ہنس پڑے اور بعد میں کئی روز تک لوگوں سے مولوی صاحب کہتے رہے کہ نہیں نہیں میری دونوں بیویوں پر طلاق نہیں ہوئی اور نہ میں نے طلاق کا نام لیا تھا۔اب جو دس ہیں سود وسو کو خبر تھی تو مولوی صاحب نے ہزاروں کو خبر دے دی۔(صفحہ 83) -4 قرآن کریم اور احادیث میں ” توفی“ کا لفظ ذوی العقول کے لئے بیسیوں بلکہ سینکڑوں مرتبہ استعمال ہوا ہے اور حضرات علماء ہر جگہ اس کے معنی قبض روح اور وفات ہی کرتے ہیں لیکن یہی لفظ جب حضرت مسیح کے متعلق آئے تو اس کے معنی زنده بجسده العصر کی آسمان پر اُٹھائے جانے کے کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود نے علماء کو چیلنج کیا کہ اگر کوئی شخص قرآن کریم سے یا کسی حدیث سے یا اشعار وقصائد اظم و