حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 15
15 لوگ ڈراتے تھے کہ مرزا صاحب تو کسی کے ساتھ بات نہیں کرتے اور ہندوؤں کے ساتھ بہت بد خلقی کے ساتھ پیش آتے ہیں۔میں نے یہاں ہر بات اس کے برخلاف پائی ہے اور آپ کو اعلیٰ درجہ کا خلیق اور مہمان نواز دیکھا ہے۔فرمایا:۔”ہمارے اصول میں داخل نہیں کہ اختلاف مذہبی کے سبب کسی کے ساتھ بد خلقی کریں اور بدخلقی مناسب بھی نہیں کیونکہ نہایت کار ہمارے نزدیک غیر مذہب والا ایک بیمار کی مانند ہے جس کو صحت روحانی حاصل نہیں۔پس بیمار تو اور بھی قابل رحم ہے جس کے ساتھ بہت خلق اور حلم اور نرمی کے ساتھ پیش آنا چاہئے۔اگر بیمار کے ساتھ بدخلقی کی جاوے تو اس کی بیماری اور بھی بڑھ جائے گی۔اگر کسی میں کجی اور غلطی ہے تو محبت کے ساتھ سمجھانا چاہئے۔ہمارے بڑے اصول دو ہیں۔خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق صاف رکھنا اور اس کے بندوں کے ساتھ ہمدردی اور اخلاق سے پیش آنا۔(+190638/195 ( بدر جلد 2 نمبر 29 صفحہ 3، مورخہ 19 جولائی 1906ء) ایک دفعہ حضرت سیدنا و مولانا حکیم نورالدین خلیفہ اصبح الاول نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت عالیہ میں عرض کی کہ حضور مجھے کوئی مجاہدہ بتائیے۔فرمایا عیسائیت کے غلط عقائد کے خلاف کتاب لکھیں۔“ اس زمانہ میں مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ 6لاکھ مسلمان مرتد ہو کر عیسائی بن