حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ

by Other Authors

Page 21 of 25

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ — Page 21

39 38 چودھویں صدی ہجری کے آخر پر بیت بشارت پیدور آباد ( قرطبہ ) کی تعمیر حضرت خلیفہ بچیاں اپنے امتحان کے نتائج سے آپ کو آگاہ کریں۔پوزیشن لینے والوں کے لئے تمغہ جات دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔آپ نے محنت، دعا اور اچھی غذا اور سویا بین اور سویا لیسی تھین کی طرف جماعت کے طلباء کو وقتاً فوقتاً توجہ دلائی۔تعلیمی منصوبہ کے ضمیمہ کے طور پر آپ نے طلباء اور پروفیشنلز ،ڈاکٹر انجینئر زاور آرکیٹیکٹس لمسیح الثالث کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔تعلیمی ترقی کا عظیم منصو به آپ کا یہ نظریہ تھا کہ بچوں کو جتنی زیادہ تعلیم دی جائے گی وہ اتنا ہی زیادہ قرآن کو سمجھیں وغیرہ کی تنظیمیں بھی قائم فرمائیں تا کہ اپنے اپنے فن میں احمدی امتیاز پیدا کریں اور جماعتی گے اس لئے آپ نے احمدی بچے کا کم از کم معیار تعلیم میٹرک اور دور دراز دیہاتی بچی کے لئے خدمات کی بھی توفیق پائیں۔تعلیم کا کم از کم معیار بدل قرار دیا اور فرمایا کہ اس میں درجہ بدرجہ کئی مراحل آئیں گے۔آپ دینی ستاره احمدیت اور دنیوی علم کی تفریق کو تسلیم نہیں کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ ہر دنیوی علم جب تک نہ بگڑے وہ دینی علم ہے پہلے زمانہ میں مسلمانوں نے دنیوی علوم کو دینی علوم کے طور پر ہی حاصل کیا اور ان میں کمال حاصل کر کے دنیا کو بے انتہاء فیض پہنچایا۔جلسہ سالانہ 1981ء کے موقع پر آپ نے جماعت کو ستارہ احمدیت کا تحفہ دیا۔فرمایا جس طرح اس کا ئنات کی بنیاد لا اله الا اللہ ہے اسی طرح جماعت احمدیہ کا دل لا اله الا الله جب احمدی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام نے جب 1979ء میں نوبیل انعام حاصل کیا تو ہے اس لئے ستارے کے دل (وسط) میں لا الہ الا اللہ لکھا گیا ہے چونکہ چودہ صدیاں گزر آپ نے تعلیمی منصوبہ بندی کا اعلان کیا اور اسے صد سالہ احمد یہ جوبلی منصوبہ کا ایک اہم حصہ قرار گئیں اس واسطے میں نے مناسب سمجھا کہ چودہ کونوں والا ستارہ احمدیت جماعت کو پیش دیا آپ نے یہ ہدایت فرمائی کہ ہر بچے کو اس کی ذہنی استعداد کے مطابق اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم کروں۔۔۔سنت نبوی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا کوئی عظیم نشان دیکھا جائے تو اللہ اکبر کا نعرہ دلوائیں۔فرمایا: جماعت کا کوئی ذہین بچہ چاہے وہ ماسکو میں ہو یا نیو یارک میں یا پاکستان کے اندر لگایا جائے اس واسطے ان چودہ کونوں میں اللہ اکبر لکھوا دیا ہے۔یا باہر ، اس کا ذہن ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔ہم ہر سال جماعت احمدیہ کی طرف سے سوا لاکھ روپے کے وظیفے ذہین طلباء کو دیں گے۔یہ انعام نہیں یہ ان طالب علموں کا حق ہے۔آپ نے ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کو اس کمیٹی کا صدر مقرر کیا۔پندرھویں صدی کا ماٹو (الفضل 29 دسمبر 1981ء) آپ کے دورِ خلافت میں چودھویں صدی ہجری کا اختتام ہوا۔پندرہویں صدی کے آغاز۔۔۔۔آپ کا نظر یہ تھا کہ ہم ( دین حق ) کو اس وقت تک نہیں پھیلا سکتے جب تک دشمنان ( دین حق کو تعلیم کے میدان میں شکست نہ دے دیں۔آپ نے فرمایا: میرے دل میں یہ خواہش پیدا میں آپ نے فرمایا: پچھلی صدی میں میں نے تمہیں۔دو ماٹو دیے تھے (۱) حمد اور (۲) عزم۔ہوئی ہے کہ اگلے دس سال کے بعد آنے والے سو سال میں جس صدی کو میں غلبہ ( دین حق ) کی قیامت تک وہ قائم رہیں گے۔لیکن اس صدی میں جو اور ذمہ داریاں ہیں ان کے مدنظر صدی کہتا ہوں ہمیں ایک ہزار سائنس دان اور محقق چاہئیں۔آپ نے فرمایا تمام احمدی بچے اور میں کچھ اور اصولی ماٹو ز آپ کو دیتا ہوں۔(۳) محبت و پیار۔۔چوتھا مائو (۴) خدمت۔۔۔اگر