حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ — Page 2
1 پیش لفظ حضرت حافظ مرزا ناصراحمد خلیفۃ المسح الثالیؒ حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ آسیح الثالث رحمہ اللہ تعالٰی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے تھے۔آپ کی پیدائش الہی بشارات کے تحت ہوئی اور بچپن سے ہی حضرت اماں جان نے آپ کی اپنے بیٹوں کی طرح پرورش فرمائی۔آپ نہایت ذہین، علیم، منکسر المزاج مگر مصمم ارادہ کے مالک تھے۔جب سے آپ نے ہوش سنبھالا ایک ہی خواہش آپ کے ذہن پر سوار رہتی کہ کسی طرح دین حق کی اشاعت اور خدمت میں آپ اپنا حصہ پیش کر سکیں۔18 سال تک خلافت احمدیت کی عظیم الشان ذمہ داریوں کو سرانجام دینے کے بعد 8 اور 9 جون 1982ء کی درمیانی شب آپ اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔خود بھی اعلیٰ درجہ کی خدمات بجالائے اور ہمارے لئے بھی ایک اعلیٰ نمونہ چھوڑ گئے۔اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو۔آمین ہو۔میں نے اپنی عمر میں سینکڑوں مرتبہ قرآن کریم کا نہایت تدبر سے مطالعہ کیا ہے۔اس میں ایک آیت بھی ایسی نہیں جو کہ دنیاوی معاملات میں ایک مسلم اور غیر مسلم میں تفریق کی تعلیم دیتی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ کرام نے لوگوں کے دلوں کو محبت، پیار اور ہمدردی سے جیتا تھا۔اگر ہم بھی لوگوں کے دلوں کو فتح کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنا ہوگا۔قرآن کریم کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے: سب سے محبت اور نفرت کسی سے نہیں Love for All, Hatred for None یہی طریقہ ہے دلوں کو جیتنے کا۔اس کے علاوہ اور کوئی طریقہ نہیں۔“ مبشر پیدائش خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ 15 اکتوبر 1980ء۔بحوالہ دورہ مغرب صفحه 523، صفحہ 524) سیدنا حضرت حافظ مرزا ناصر احد خلیفہ المسح الثالث سیدنا حضرت مرزا بشیرالدین محموداحمد امصلح الموعود کے فرزند ارجمند تھے۔آپ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی عظیم الشان بشارتوں کے مطابق 16 نومبر 1909ء (2 ذی قعد 1327ھ ) بروز بدھ حضرت محمودہ بیگم صاحبہ ام ناصر کے بطن سے قادیان دارالامان میں پیدا ہوئے۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے موعود نافلہ ( پوتے ) ہیں۔اس کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سب سے چھوٹے بیٹے مرزا مبارک احمد کی بچپن میں ہی صرف آٹھ سال کی عمر میں وفات ہو گئی۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کوکئی الہامات کے