حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ — Page 9
15 14 کی تقسیم کے وقت پنجاب باؤنڈری کمیشن کے لئے مسلم اکثریت والے علاقوں کے ریکارڈ مبارک احمد صاحب کو سونپ دیا۔تیار کرنے کا ہنگامی کام، پاکستان ہجرت کے وقت جماعت احمدیہ کے دائمی مرکز قادیان کی جماعت کے مرکزی اداروں کے لئے خدمات حفاظت کا کام جہاں علاقے کے مسلمان مردوزن بھی پناہ گزین تھے اور ہر طرف سے دشمن حملہ کر رہا تھا۔آپ جان ہتھیلی پر رکھ کر کمال شجاعت سے تمام ذمہ داریاں ادا کرتے رہے اور پناہ گزیں عورتوں میں اپنی بیوی اور خاندان کی دیگر مستورات کے سارے کپڑے تقسیم کر دیئے، 1954ء کے بعد کا زمانہ آپ کی ذمہ داریوں میں غیر معمولی اضافے کا زمانہ ثابت ہوا۔1955ء میں خلیفہ وقت نے آپ کو جماعت کے مرکزی ادارے صدر انجمن احمدیہ کا صدر ہجرت کے بعد پاکستان میں خدام الاحمدیہ کی تنظیم نو آزادی کشمیر کے لئے 1947 ء میں کشمیر کے بنا دیا۔اس کے علاوہ آپ ناظر خدمت درویشاں قادیان ، ڈائر یکٹر تحریک جدیداور 1959ء محاذ پر جب پاکستان اور ہندوستان کی جنگ جاری تھی تب احمدی رضا کاروں کی ”فرقان بٹالین“ سے افسر جلسہ سالانہ کے طور پر خدمت پر مامور رہے۔حضرت مصلح موعود کی لمبی بیماری کے دوران قائم ہوئی۔بھارت کی طرف سے باقاعدہ فوج لڑ رہی تھی اور پاکستان کی طرف سے اکثر و بیشتر 1961ء میں ایک نگران بورڈ بنایا گیا آپ اس بورڈ کے بھی ممبر بنادیئے گئے۔رضا کا رہی مصروف جہاد تھے۔رضا کاروں کی فراہمی ، فوجی تربیت، محاذ پر بھجوانے کے متعلق صدر انجمن کے قواعد وضوابط کی تدوین واشاعت، اخراجات پر کنٹرول، خدمت قرآن اور ضروری انتظامات وغیرہ کے لئے حضرت مصلح موعود نے جو کمیٹی بنائی اس کے آپ صدر تھے۔اشاعت دین، قادیان کے درویشوں کی فلاح و بہبود اور روابط ، تحریک جدید کے انتظامات، آپ نے فرقان بٹالین کے سلسلہ میں کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے اور اخباروں نے برملا ادارۃ المصنفین میں قرآن کریم، احادیث نبوی اور فقہ و تاریخ وغیرہ کی اشاعت کے کاموں میں اظہار کیا کہ تمام دینی جماعتوں میں سے جماعت احمد یہ اول نمبر پر رہی۔مدد اور راہنمائی تعمیر کمیٹی ربوہ میں شمولیت، جلسہ سالانہ کے وسیع انتظامات ، جلسہ سالانہ پر تقاریر، صدر مجلس انصارالله مشاورت غرضیکہ خلیفہ وقت کے ماتحت جماعت کے پورے تنظیمی ڈھانچہ میں آپ نے بے مجلس خدام الاحمدیہ کے لئے پندرہ سال عظیم الشان خدمات کی توفیق پانے کے مثال خدمات کی توفیق پائی۔بعد 1954ء میں حضرت مصلح موعود نے آپ کو مجلس انصار اللہ مرکز یہ کا صدر بنا دیا۔اُس وقت ذمہ داریوں میں غیر معمولی اضافہ اور آپ کی قلبی کیفیت کسی نے کہا۔”میاں صاحب اب آپ بھی بوڑھے ہو گئے ہیں۔آپ نے فرمایا۔” میں بوڑھا حضرت مصلح موعود پر 1954ء میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس کے بعد آپ لمبا عرصہ بیمار نہیں ہوا۔بلکہ انصار اللہ جوان ہو گئی ہے۔آپ نے مجلس انصار اللہ کی تنظیم نو کی، دفتر انصار اللہ تعمیر کروایا۔سالانہ اجتماعات کا آغاز فرمایا۔ماہنامہ انصار اللہ جاری کیا۔علم انعامی، اشاعت رہے۔حضرت مصلح موعود کی لمبی بیماری کے دوران تو آپ پر ذمہ داریوں کا بوجھ بڑھتا ہی گیا۔لٹریچر، سہ ماہی امتحان تعلیم القرآن ، سندھ میں غیر مسلموں میں دعوت الی اللہ اور دیگر انصار اللہ آپ حضرت مصلح موعود کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔اندرونی فتنے بھی تھے۔باپ کی کی سرگرمیاں جو آج نظر آتی ہیں یہ سب آپ ہی کے جاری کردہ کام ہیں۔آپ خلیفہ منتخب لمبی بیماری۔جماعتی کام اور غیر معمولی ذمہ داریاں اوپر سے کئی قسم کی آزمائشیں۔اگر کوئی اور ہونے کے ایک ڈیڑھ سال تک مجلس انصار اللہ کے صدر رہے اور پھر یہ منصب صاحبزادہ مرزا ہوتا تو گھبرا کر صبر کا دامن چھوڑ دیتا لیکن آپ ثابت قدم رہے اور اللہ تعالیٰ پر سارا بھروسہ رکھ