حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ

by Other Authors

Page 10 of 25

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ — Page 10

17 16 کر خدمت میں لگے رہے اور اللہ تعالیٰ سے ہی مدد مانگتے رہے۔مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب بیان کرتے ہیں کہ تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کی عمارت کے مشرقی جانب آپ کی رہائش گاہ تھی وہاں آپ کے پاس گل خان نامی ایک پٹھان چوکیدار تھے جو نہایت مخلص اور نیک آدمی تھے۔1955ء سے انتخاب خلافت تک کے زمانہ میں اکثر آپ کے پاس بعض کاموں کے لئے آتا جاتا رہتا تھا میں نے ایک دن گل خان سے یہ پوچھا کہ سناؤ میاں صاحب کی زندگی کیسے گزرتی ہے؟ کہنے لگے رات گئے تک اپنی ذمہ داریوں کے ادا کرنے کے بعد گھر آتے ہیں اور تھوڑی دیر آرام فرمانے کے بعد نماز تہجد کے لئے اپنے ڈرائینگ روم میں آجاتے ہیں اور بڑی آہ وزاری کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر گر جاتے ہیں۔وہ ایک لمباوقت رو رو کر خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت میاں صاحب کے اس عمل میں کبھی ناغہ نہیں دیکھا۔“ (حیات ناصر جلد اوّل صفحہ 349) اللہ تعالیٰ کا نہیں ہاتھ اپنی خلافت کے دوران آپ نے ایک بار بیان کیا کہ بعض اوقات غیر معمولی جماعتی مصروفیات کی وجہ سے آپ کا لج میں اپنی پولیٹیکل سائنس کی کلاس کو پور ا وقت نہیں دے سکتے تھے اور پورا کورس ختم نہیں ہونے پاتا تھا لیکن بسا اوقات دعا کے نتیجے میں آپ کو خواب میں امتحانی انتخاب خلافت ثالثه ( 8 نومبر 1965ء) 5 نومبر 1965ء کو جمعہ تھا۔حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ بیان فرماتی ہیں: حضرت مصلح موعود کی بیماری کے آخری ایام تھے (5 نومبر 1965 ء کو ) جمعہ کے دن مؤذن پوچھنے آیا کہ جمعہ کون پڑھائے ؟ عموماً آپ نے فرمانا شمس صاحب یعنی مولانا جلال الدین صاحب شمس۔کبھی شمس صاحب مرحوم ربوہ سے باہر گئے ہوتے تو فرماتے مولانا ابوالعطاء صاحب یا قاضی محمد نذیر صاحب جمعہ پڑھا دیں۔وفات سے دو تین دن پہلے جمعہ تھا مؤذن پوچھنے آیا تو آپ نے فرمایا۔ناصر احمد مجھے اس وقت تعجب ہوا کہ اس سے پہلے مجھے یاد نہیں کبھی یہ کہا پھر دوبارہ پوچھا تو پھر یہی کہا ناصر احمد" دفتر کا آدمی اطلاع دینے گیا تو حضرت مرزا ناصر احمد صاحب جمعہ پر جانے کے لئے تیار ہورہے تھے۔خیال بھی نہ تھا کہ جمعہ پڑھانا پڑے گا۔حکم کی تعمیل کی۔یہ بھی پر چہ دکھا دیا جاتا اور آپ طلباء کو بتائے بغیر ان سوالات پر مشتمل جامع نوٹس تیار کر کے چند لیکچروں میں اس مضمون کے متعلقہ حصے پڑھا دیتے تھے اور پولیٹیکل سائنس میں آپ کی کلاس کا نتیجہ باقی مضامین سے بہتر نکلتا۔صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب صدر مجلس انصار الله پاکستان و ناظر دیوان صدر انجمن احمد یہ اور مکرم محمود احمد قمر صاحب مرحوم جو آپ کے شاگرد تھے انہوں نے اس امر کی شہادت دی۔يقيناً خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک اشارہ تھا کہ آئندہ خلافت کی ذمہ داریاں ان پر پڑنے والی ہیں۔“ (حیات ناصر جلد اوّل صفحہ 350) اس واقعہ کے دو دن بعد 7 اور 8 نومبر 1965ء کی درمیانی شب کو حضرت مصلح موعود کا