حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ

by Other Authors

Page 7 of 25

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ — Page 7

11 10 آپ نے فرمایا کہ میں خدمت ( دین حق) کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اور اپنی زندگی اس مقصد کے لکھا اور فرمایا: لئے وقف کرنے کا عزم کئے بیٹھا ہوں مجھے اور کوئی خواہش نہیں۔۔۔یہ خاتون کہنے لگیں کہ میرے منہ سے نکلا Oh, what a waste of time (یعنی یہ تو گویا وقت کے ضیاع کے علاوہ کچھ بھی نہیں) لیکن اب جب میں دیکھتی ہوں کہ وہ جماعت کے سر براہ ہیں تو ندامت ہوتی ہے کہ کتنا غلط فقرہ منہ سے نکل گیا تھا۔“ با قاعده وقف زندگی (بحوالہ ماہنامہ خالد سید نا ناصر نمبر اپریل مئی 1983 ، صفحہ 170,169) 1934ء سے 1938 ء تک آپ کا قیام انگلستان میں رہا۔اس دوران آپ یورپ کے بعض اور ملکوں میں بھی تشریف لے گئے۔آپ کا دل ہمیشہ خدمت دین کے جذبات سے مچلتا رہتا۔ایک مرتبہ جرمنی میں آپ نے خواب دیکھا کہ وہاں ہٹلر ہے جو آپ کو اپنا عجائب خانہ دکھاتا ہے جس میں ایک پتھر کا دل ہے جس پر لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ لکھا ہوا ہے۔آپ اس وقت جرمنی میں تھے جب آپ نے اپنے بزرگ والد اور خلیفہ وقت کو زندگی وقف کرنے کا خط لکھا آپ نے لکھا: گو وقف کنندہ ہوں مگر دوبارہ اپنے آپ کو حضور کے سامنے پیش کرتا ہوں۔بندہ اس وقت سے خدمت احمدیت کے لئے حاضر ہے اور سلسلہ کی غلامی کوسب عزتوں سے عزیز سمجھتا ہے اور سلسلہ کی خدمت سے علیحدہ رہتے ہوئے اپنی زندگی کو خالی اور فضول پاتا ہے۔“ حضرت مصلح موعود کو اس خط سے بہت خوشی پہنچی حضور نے جواب میں ایک طویل خط اللہ تعالیٰ تمہارے ارادہ میں برکت ڈالے۔میں خود اس بارہ میں باوجو د شدید احساس کے کچھ کہنا پسند نہیں کرتا تھا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا تھا کہ وہ خود ہی تم کو نیک ارادہ کی توفیق دے۔کیونکہ میرے نزدیک میری تحریک پر تمہارے ارادہ کو بدلنا تمہارے ثواب کو ضائع کر دیتا۔سوالحمد للہ کہ تمہارا دل اس طرف متوجہ ہوا۔“ ( بحوالہ حیات ناصر جلد اوّل صفحہ 107 تا 108)