حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ

by Other Authors

Page 14 of 25

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ — Page 14

25 24 کر رہا ہوتا ہے یا منافقوں کے متعلق اور اللہ تعالیٰ کا جس رنگ میں جس طریق پر ان پر غضب نازل ہوتا ہے اس کے متعلق کچھ فرمارہا ہوتا ہے۔“ درس مستورات غیر مطبوعہ 14 مئی 1966ء) ”میرے دل میں یہ خواہش شدت سے پیدا کی گئی کہ قرآن کریم کی سورۃ البقرہ کی ابتدائی سترہ آیتیں ہر احمدی کو یاد ہونی چاہئیں اور ان کے معانی آنے چاہئیں اور جس حد تک ممکن ہوان کی تفسیر بھی آنی چاہیے اور پھر ہمیشہ دماغ میں وہ تحضر بھی رہنی چاہیے۔“ حیات ناصر جلد اوّل صفحہ 458-457) پہلا دورہ مغرب اور بیت نصرت جہاں کا افتتاح حضرت خدریہ امسح الثالث محبت کے سفیر بن کر حضرت مسیح موعود کی نمائندگی میں دنیا کے جنگ اخبار نے لکھا: احمد یہ فرقہ کے سر براہ مرزا ناصر احمد نے تجویز پیش کی ہے کہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں کو سات سال کی مدت کے لئے یہ طے کر لینا چاہیے کہ وہ آپس کے اختلافات بھلا کر دنیا میں ( دین حق ) کی ( دعوت) کے لئے سر توڑ کوشش کریں گے اور عبوری دور میں ایک دوسرے پر کسی قسم کی نکتہ چینی نہیں کریں گے۔“ (جنگ کراچی 23 اگست 1967 ء ) بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے 1968ء میں گیمبیا میں ایک احمدی جناب ایف ایم سنگھاٹے صاحب گورنر جنرل کے دور افتادہ ملکوں میں بھی گئے اور اللہ تعالیٰ کی توحید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اور نور عہدے پر فائز ہوئے۔ان کی درخواست پر انہیں حضرت مسیح موعود کا ایک کپڑا برکت کے لئے آپ نے بھیجا۔اور اس طرح پہلی مرتبہ حضرت مسیح موعود کا الہام ”بادشاہ تیرے کپڑوں سے سے اقوام عالم کو منور کیا۔آپ کا پہلا غیر ملکی دورہ 6 جولائی سے 24 اگست 1967 ء تک کا ہے۔جس میں آپ برکت ڈھونڈیں گے ظاہر ہوا۔مغربی جرمنی ، سوئٹرز لینڈ، ہالینڈ ، ڈنمارک اور برطانیہ تشریف لے گئے۔ڈنمارک میں پہلی ( بیت قبولیت دعا الذکر کا سنگ بنیا درکھا گیا تھا۔اس دورے کے دوران 21 جولائی کو آپ نے ( بیت ) نصرت جہاں کو پن ہیگن (ڈنمارک) کا افتتاح بھی فرمایا اور اسے تاریخ کا ایک عظیم واقعہ قرار دیا کیونکہ سکینڈے نیوین ممالک میں یہ پہلی ( بیت الذکر ) تھی جو جماعت احمدیہ نے بنائی۔فرقوں کے درمیان اتحاد کی تحریک اللہ تعالیٰ نے آپ کو قبولیت دعا کے بے شمار نشان عطاء فرمائے۔ان میں سے ایک تحریر ہے کہ 1979ء میں آپ کی دعا سے پہلے احمدی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے فزکس میں سب سے بڑا عالمی انعام ” نوبیل پرائز حاصل کیا جس کی خدا تعالیٰ نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کو قبل از وقت اطلاع دی تھی۔اس طرح آپ کے دور میں حضرت مسیح موعود کا یہ نشان پہلے مغربی ممالک کے سفر سے واپسی پر آپ نے مسلمان فرقوں کو اپنے درمیان اتحاد پیدا ظاہر ہوا کہ کرنے کی تحریک فرمائی جس کی خبر کئی پاکستانی اخباروں نے شائع کی۔میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ