حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ

by Other Authors

Page 13 of 25

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ — Page 13

23 22 ر اس رقم سے خلافت لائبریری بنی اور ان بے شمار کاموں کا آغاز ہوا جن کا تعلق حضرت خلیفہ امسیح الثانی کے علمی خزانوں اور تحریکات سے تھا اور اب تک جاری ہیں۔آپ نے 1980ء کے دورہ مغرب کے دوران فرمایا: دو سب سے پہلے میری طرف سے فضل عمر فاؤنڈیشن کا منصوبہ پیش ہوا۔جماعت نے اپنی ہمت اور توفیق کے مطابق اس میں حصہ لیا اس کے تحت بعض بنیادی نوعیت کے کام انجام دیئے گئے۔یہ گو یا ابتدا تھی ان منصوبوں کی جو خدائی تدبیر کے ماتحت غلبہ دین حق ) کے تعلق میں جاری ہونے تھے۔“ دورہ مغرب 1400 صفحہ 23) تعلیم واشاعت قرآن سے روشناس کرائیں۔تفاسیر کی طباعت ہو، ہر زبان میں ہو۔ہر ملک میں ہو۔ہر قوم کے لئے ہو۔ہر قبیلے کے لئے ہو۔۔۔66 حیات ناصر جلد اول صفحہ 480,79) آپ کے دور خلافت میں دنیا بھر میں کئی ہوٹلوں اور لائبریریوں میں قرآن کریم رکھوائے گئے اور کثرت سے ملک کے سربراہوں اور اہم شخصیات کو تحفہ کے طور پر دئیے گئے۔آپ کی خواہش تھی کہ Voice of Quran ( یعنی قرآن کی آواز ) کے نام سے ایک ریڈ یوٹیشن قائم کیا جائے جسے اللہ تعالیٰ نے اگلی خلافت کے دوران ایم ٹی اے کے ذریعہ سے پورا کیا۔تین اہم امور خلافت کی ابتداء میں ہی آپ نے جماعت کی توجہ تین اہم امور کی طرف دلائی اور اس آپ نے ایک عظیم الشان کشفی نظارے کو دیکھ کر تعلیم القرآن اور وقف عارضی کا منصوبہ سلسلہ میں خطبات جمعہ ارشاد فرمائے۔وہ تین اہم امور یہ ہیں۔جاری کیا۔اس کام کی نگرانی کے لئے ایک الگ نظارت بھی قائم فرمائی۔آپ نے اشاعت قرآن کے کام کو آگے بڑھایا۔آپ نے فرمایا: اشاعت قرآن کے سلسلہ میں تین مرحلے آتے ہیں۔ایک یہ کہ متن قرآن کریم کو ہر ( احمدی) کے ہاتھ میں پہنچا دیا جائے۔یہی نہیں بلکہ متن قرآن عظیم کو دنیا کے ہر انسان کے ہاتھوں تک پہنچایا جائے۔دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ قرآن کریم کا ترجمہ ہر قوم اور ہر ملک کی زبان میں کیا جائے تا کہ دنیا کے ہر خطہ کے لوگوں تک قرآن کریم کو اس کے معنے اور مفہوم کے ساتھ پہنچایا جا سکے۔۔( تیسرا مرحلہ ) اس کا ترجمہ سمجھنے لگ جائیں تو ہم ان کو قرآن عظیم کی تفسیر نجات محض اللہ کے فضل پر منحصر ہے فروتنی اور انکساری کے اوصاف اختیار کرنا مسکینوں ، یتیموں اور اسیروں کو کھانا کھلانے کی ترغیب سورۃ البقرہ کی پہلی سترہ آیات حضرت خلیفہ المسح الثالث نے خلافت کے ابتدائی دور میں مستورات میں قرآن کریم کے ابتدائی حصے کے درس دیئے۔سورۃ البقرہ کے پہلے دور کوع میں جو مضمون بیان ہوا ہے اس بارے میں فرمایا: ایک رنگ میں قرآن کریم انہی تین نکتوں کے گرد گھومتا ہے یعنی یا متقیوں اور تقویٰ کے متعلق بتا رہا ہوتا ہے یا وہ کافروں اور کفر کے متعلق کچھ بیان