حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ — Page 12
20 21 احباب جماعت احمدیہ کے ساتھ مل کر اس عہد کی تجدید کی اور فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ نماز جنازہ ادا کرنے سے قبل ہم سب مل کر اپنے رب رؤف کو گواہ بنا کر اس مقدس منہ کی خاطر جو چند گھڑیوں میں ہماری آنکھوں سے اوجھل ہونے والا ہے اپنے اس عہد کی تجدید کریں اور وہ عہد یہ ہے کہ ہم دین اور دین کی مصالح کو دنیا اور اس کے سب سامانوں اور اس کی ثروت اور وجاہت پر ہر حال میں مقدم رکھیں گے اور دنیا میں دین کی سر بلندی کے لئے مقدور بھر کوشش کرتے رہیں گے۔“ حیات ناصر جلد اوّل صفحہ 363,364) دور خلافت (1982-1965) دور خلافت کے اہم واقعات اور تحریکات 1965ء 19 ء میں حضرت خلیفہ المسح الثالث کی خلافت کا آغاز اللہ تعالیٰ کی عظیم بشارتوں سے ہوا اور 1982ء میں اللہ تعالیٰ کے زندہ فضلوں کا امین بن کر اپنی تکمیل کو پہنچا۔آپ نے اپنی خلافت کے آغاز پر جلسہ سالانہ پر فرمایا: میں تمام جماعت کو جو کہ یہاں موجود ہے اور پوری دنیا کو کامل یقین کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ آئندہ چھپیں تھیں سال کے اندر دنیا میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا ہونے والا ہے۔وہ دن قریب ہیں جب دنیا کے بہت سے ممالک کی اکثریت (دین حق ) کو قبول کر چکی ہوگی اور دنیا کی سب طاقتیں اور ملک بھی اس آنے والے روحانی انقلاب کو روک نہیں سکتے۔“ فضل عمر فاؤنڈیشن (حیات ناصر جلد اوّل صفحہ 376) 1965ء میں آپ نے حضرت فضل عمر لریقہ اسیح الثانی کی یاد میں فضل عمر فاؤ نڈ یشن کا منصو بہ جاری کیا اور جماعت سے 25 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا ( اُس وقت یہ بہت بڑی رقم تھی) اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے الہا مابتایا۔میں تینوں ایناں دیواں گا کہ تو رج جاویں گا۔“ حیات ناصر جلد اوّل صفحہ 384)