حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ — Page 6
9 8 آپ کو سکول آف اور نینٹل اینڈ افریقن سٹڈ The School oOriental and African Studies میں داخلہ ملا۔یوں آپ لندن یونیورسٹی کے طالبعلم بنے۔جہاں آپ کو مختلف قوموں اور نسلوں کے افراد سے ملنے اور دوست بنانے کا موقع ملا۔جس سے آپ نے خوب فائدہ اُٹھایا۔آپ نے انگریزی زبان میں خوب مہارت حاصل کر لی اور اپنا مافی الضمیر ٹکسالی انگریزی میں ادا کرنے کے قابل ہو گئے۔1957ء میں آپ واپس تشریف لے آئے۔جب آپ لندن سے کراچی پہنچے تو آپ نے کوٹ پینٹ زیب تن کیا ہوا تھا۔ایک دوست نے کہا کہ آپ یہاں اچکن اور شلوار پہنیں ورنہ لوگ کہیں گے کہ آپ پر اہل مغرب کا اثر ہو گیا ہے۔آپ ریا کاری سے کوسوں دور تھے۔آپ نے فوراً جواب دیا کہ نہیں۔میں لوگوں کو اچھا لگنے کی وجہ سے اچکن نہیں پہنوں گا اور نہ اہل مغرب سے متاثر ہوکر میں نے سوٹ پہنا ہوا ہے۔اس لئے اسی لباس میں ربوہ آئے۔پیارے بچو! لباس تو انسان اپنی ستر پوشی اور زینت کے لئے پہنتا ہے۔پس جو لباس بھی پہنا جائے اس میں یہ دونوں خصوصیات ضروری ہیں۔اچکن اور شلوار قمیض بھی پیارا لباس ہے اور پینٹ کوٹ بھی اچھا ہے۔حسب حالات انسان کوئی سالباس پہن سکتا ہے۔بھر پور خدمات سلسلہ 1957ء میں ربوہ واپسی پر حضرت مصلح موعود نے اپنی اس سال جاری فرمودہ عظیم الشان تحریک " وقف جدید" کی نگرانی کا کام آپ کو سونپا اور آپ نے ناظم ارشاد وقف جدید کی حیثیت سے ملک کے طول و عرض کے دورے کئے بالخصوص دور دراز دیہات میں بسنے والے احمدیوں تک آپ بنفس نفیس پہنچے اور ان کے حالات کا مشاہدہ کیا۔ان کی اصلاح اور تربیت اور تعلیم کے منصوبے بنائے۔آپ 67-1966ء میں مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کے صدر منتخب ہوئے۔اس طرح احمدی نو جوانوں کی تربیت کے لئے آپ نے گراں قدرمساعی فرما ئیں۔1979ء میں آپ صدر مجلس انصار اللہ مرکزی منتخب ہوئے۔علاوہ ازیں آپ نائب افسر جلسہ سالانہ، ڈائریکٹر فضل عمرفاؤنڈیشن،امیر مقامی ربوہ اور دیگر جلیل القدر عہدوں پر فائز رہے۔1974ء میں جماعت احمدیہ کا جو وفد قومی اسمبلی میں پیش ہوا۔اسکے ایک ممبر آپ بھی تھے۔شادی 1957ء میں لندن سے واپسی پر آپ کی شادی سیدہ آصفہ بیگم صاحبہ سے ہوئی۔شادی کے بعد آپ کو حضرت مصلح موعود کی طرف سے تین بیڈ رومز پر مشتمل