حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ

by Other Authors

Page 26 of 27

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ — Page 26

49 48 محنت و مشقت کی عادت حضور رحمہ اللہ نے فرمایا: کوئی میرے بارے میں شاید خیال کرتا ہو کہ میں نے محنت کا کوئی کام نہیں کیا، ورثہ ہی پایا ہے۔اس لئے میں اپنی محنت کے حالات بتاتا ہوں۔میں نے خود زمینداری کی ہے میں اتنی محنت کیا کرتا تھا کہ آپ میں سے بہت سے ایسی محنت نہیں کر سکتے۔میں مزدوروں کی طرح اڑھائی من کی بوری اُٹھا تا رہا ہوں تا کہ کام کرنے والے مزدوروں کو پتہ لگے کہ یہ کام ایسا نہیں جو میں نہ کر سکوں۔میں اپنی فصل کو اپنے سائیکل پر لاد کر گھر پہنچایا کرتا تھا۔میں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے اپنی زمین پر کام کیا کرتا تھا۔میں نے لندن میں یہ کام کیا کہ اخبار کے بھاری بھاری پیکٹ رات سے صبح تک آٹھ گھنٹے مسلسل اٹھا کر رکھتا تھا اور جب ہم رکھتے تھے کہ کام ختم ہوا تو عین اس وقت دوسرا ٹرک پہنچ جاتا تھا۔وہ کام ختم کرتے تو تیسرا ٹرک آجا تا تھا۔اس میں اتنی شدید جسمانی مشقت ہوتی کہ گھر واپس آتا تو تھکن سے بخار چڑھ جاتا تھا۔مگر میں آرام کر کے تھکاوٹ اُتار کر پھر کام پر پہنچ جاتا تھا۔یہ کام میں نے مسلسل ایک ماہ تک انگلستان میں گرمیوں میں کیا۔یہ نہ سمجھیں کہ محنت کی قدر نہیں جانتا۔اب بھی اللہ کے فضل سے آپ لوگوں کی خاطر ہر قسم کی محنت کرتا ہوں۔اس میں جسمانی محنت بھی شامل ہے۔آپ سے ملاقاتیں کرتا ہوں۔آپ کو پتہ نہیں کہ اس میں کتنی محنت صرف ہوتی ہے۔جتنی خدا نے مجھے توفیق دی ہے اس کے مطابق محنت کرتا ہوں۔اصل برکت محنت میں ہے۔محنت کے وقار کو قائم کریں۔اتنی محنت کریں کہ دنیا محنت کا طریق ہم سے سیکھے۔(الفضل 7 جولائی 2000ء)