حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ — Page 21
39 38 اپنے دفتر میں رکھا اور کھلایا پلایا۔تین دن بعد جب اسے حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے دیکھتے ہی فرمایا: ” کیا یہ وہی کبوتر ہے؟ آپ نے تو اسے مکمل طور پر بدل دیا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ آپ آج رات اسے فرنچ ملاقات پروگرام میں لے کر آئیں اور اس پر ایک مختصر ڈاکو منٹری بنائیں کہ اس کو کیا ہوا تھا اور کس طرح اس کی دیکھ بھال کی گئی ہے۔چنانچہ اس رات فرنچ ملاقات پروگرام میں وہ خوش قسمت کبوتر star of' the show بن گیا۔اس پروگرام میں حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کو کبوتر کی ساری کہانی سنائی گئی اور بعد ازاں اس کی مختصر ڈاکومنٹری بنا کرMTA پر دکھائی گئی۔اس کے بعد کبوتر کو آزاد کر دیا گیا مگر وہ نہیں جانتا کہ وہ کس قدر خوش قسمت ہے جو حضور انور رحمہ اللہ تعالیٰ کی شفقت بھری توجہ کا مورد بنا۔(ماہنامہ ” خالد سیدنا طاہر نمبر صفحہ 147-148) مکرم رفیق احمد حیات صاحب بیان کرتے ہیں:۔حضور رحمہ اللہ کا یہ معمول تھا کہ صبح سیر پر جاتے ہوئے اپنے ہمراہ کچھ روٹی کے ٹکڑے لے جایا کرتے تھے جو وہاں پر موجود پرندوں کو ڈالتے تھے۔بیت الفضل کے احاطہ کے قریب کچھ لومڑیاں رہا کرتی تھیں جو باقاعدہ آیا کرتی تھیں۔سیکورٹی والوں کو حضور انور کی طرف سے خاص ہدایت تھی کہ بیت الفضل کے گیٹ کے باہر گوشت رکھنے کا انتظام ہونا چاہئے اور وہ با قاعدہ آکر کھایا کرتی تھیں۔(ماہنامہ ” خالد سیدنا طاہر نمبر صفحہ 221) سادگی اور نفسی مکرم مرزا خلیل احمد قمر صاحب لکھتے ہیں:۔۱۹۷۴ ء میں قومی اسمبلی میں جماعت احمدیہ کی طرف سے محضر نامہ پیش کرنے کی تیاری ہورہی تھی۔سلسلہ احمدیہ کے بہت سے علماء اور دیگر کارکن اس سلسلہ میں مصروف تھے۔اس مسودہ کو فائنل کرنے کے بعد کاتبوں کے سپر د کرنا تھا۔پانچ چھ کاتب دفتر ارشاد میں اس کام میں مصروف تھے۔کھانے وغیرہ کا انتظام بھی تھا۔پہلے مسودہ تیار کیا جاتا۔پھر حضرت میاں صاحب اس کو دکھانے کے لئے حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحمہ اللہ کے پاس لے جاتے آخری مرحلہ کا تبوں کا تھا۔ایک دن دو پہر کے کھانے کا وقت تھا۔حاضر احباب نے کھانا کھالیا۔حضرت میاں صاحب حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ کے حضور حاضر تھے۔واپس تشریف لائے تو فرمانے لگے خلیل کچھ کھانے کو ہے؟ ہمارا خیال تھا کہ میاں صاحب حضور سے مل کر گھر تشریف لے جائیں گے۔اب ہمارے منہ پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔فرمانے لگے پریشان کیوں ہو۔عرض کیا کھانا تو ختم ہو گیا ہے۔فرمانے لگے برتن دیکھو شاید کچھ ہو۔برتن میں بہت ہی کم سالن تھا مگر روٹی بالکل نہیں تھی۔ابھی ہم نے برتن وغیرہ سمیٹے نہیں تھے۔میز پر روٹی کے چند ٹکڑے پڑے تھے جن پر میاں صاحب کی نظر پڑ گئی۔فرمانے لگے یہ روٹی تو