حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ — Page 18
33 32 علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں پر حملہ نہیں ہونے دوں گا۔جس طرف سے آئیں، جس بھیس میں آئیں ان کے مقدر میں شکست اور نا مرادی لکھی جا چکی ہے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعے دوبارہ قرآن کریم کی عظمت کے گیت گانے کے جو دن آئے ہیں، آج یہ ذمہ داری مسیح موعود کی غلامی میں میرے سپر د ہے۔آپ نے خود فرمایا:۔قبولیت دعا درس القرآن فرمودہ 27 فروری 1994ء) جب بھی کوئی مشکل در پیش ہو تو آپ خدا کے حضور دعا میں لگ جائیں اگر آپ دعا کرنے کو اپنی عادت بنالیں تو ہر مشکل کے وقت آپ کو حیران کن طور پر خدا کی مدد ملے گی اور یہ وہ بات ہے جو میری ساری عمر کا تجربہ ہے اب جبکہ میں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گیا ہوں تو میں یہ بتا تا ہوں کہ جب بھی ضرورت پڑی اور میں نے خدا کے حضور دعا کی تو میں کبھی ناکام نہیں ہوا۔ہمیشہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول کی۔مکرم سید نصیراحمد شاہ صاحب لکھتے ہیں:۔(الفضل 5 اگست 1999ء) ایک بہت بڑی انٹرنیشنل سیٹلائیٹ کمپنی سے کافی معاملات طے ہو گئے اور معاہدوں کا آخری مرحلہ آیا تو سلسلہ کچھ آگے بڑھتا نظر نہ آتا۔کسی پر اسرار وجہ سے 66 معاہدے کی آخری سٹیج مکمل نہ ہونے پارہی تھی۔کچھ تفتیش کے بعد احساس ہوا کہ اس کمپنی کی ایک ڈائریکٹر جو ہمارے کیس کی انچارج تھی وہ بلا وجہ رکا وٹیں کھڑی کر رہی تھی اور محسوس ہوتا تھا کہ وہ کسی طرح بھی یہ معاہدے مکمل نہ ہونے دے گی۔فکر مندی کے احساس تلے حضور انور رحمہ اللہ کی خدمت میں پریشانی کا اظہار کیا تو حضور نے محض اتنا فر مایا: "اچھا! اللہ فضل کرے گا۔" مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ حضور انور کے ارشاد کے ایک ہفتہ کے اندر اندر اس کمپنی کے سینئر ڈائریکٹر جو اس عورت کے افسر تھے ان کا فون مجھے آیا اور کہا کہ اب وہ یہاں کام نہیں کرتیں اور آپ کا کیس آج سے میں ڈیل (deal) کروں گا۔“ خاکسار نے شاید زندگی میں قبولیت دعا کی ایسی واضح اور عیاں مثال نہ دیکھی تھی۔یقین نہیں آتا تھا کہ ایک ڈائریکٹر جو کئی سال سے اتنی بڑی پوسٹ پر کام کر رہی تھی اچانک کمپنی نے اسے نکال کیسے دیا اور پھر خدا کی قدرت کا ایک اور نظارہ یہ تھا کہ سینئر ڈائریکٹر ایک ایسا فرشتہ صفت انسان ثابت ہوا کہ اس نے آگے چل کر ہر قدم پر ہماری مدد کی اور بے شمار رکاوٹیں دور کیں۔حضور نے فرمایا:۔اطاعت امام (ماہنامہ ” خالد۔سیدنا طاہر نمبر صفحہ 269) میں آپ کو اپنا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ان دنوں کی بات ہے جن دنوں بنگلہ دیش