حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ — Page 5
7 بچا کر دیا کرتے تھے۔CO 6 تعلیم آپ نے قادیان سے تعلیم الاسلام سکول سے اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔تعلیم کے سلسلہ میں آپ نے نصابی کتب کے حوالہ سے تو کلاس میں خاص کارکردگی نہ دکھائی لیکن شروع سے ہی آپ کو مطالعہ کا بے پناہ شوق تھا اور غیر نصابی علمی کتب کا مطالعہ بڑے انہماک اور کثرت سے کیا کرتے تھے۔مضامین میں سے آپ کو سائنس کا مضمون بہت پسند تھا کسی بھی رسالہ یا اخبار میں سائنس کی گہرائیوں سے متعلق مضمون دیکھتے تو پڑھے بغیر نہ رہتے۔پھر بڑے ہو کر آپ کو سنجیدہ اور مذہبی مطالعہ کی طرف رغبت ہوئی۔آپ کی والدہ ماجدہ کی خواہش تھی کہ آپ حافظ قرآن اور ڈاکٹر بنیں۔یہ خواہش اس طرح پوری ہوئی کہ آپ ہو میو پیتھک ڈاکٹر بنے۔ہزاروں مریض آپ کے دست شفاء کی بدولت صحت یاب ہوئے۔آپ نے ہومیو پیتھی پر ایک کتاب بھی لکھی اسی طرح قرآن کریم کے متعدد حصے آپ کو یاد تھے اس کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کے معارف کا خزانہ آپ نے ہمیں عطا فر مایا جو آپ کے خطبات و دروس میں پایا جاتا ہے۔آپ نے قرآن کریم کا ترجمہ بھی کیا جو شائع شدہ ہے۔اس طرح حافظ قرآن بننے والی خواہش بھی ایک رنگ میں پوری ہوئی۔1944ء میں آپ نے قادیان سے ہی میٹرک کا امتحان پاس کیا۔امتحان کے دنوں میں ہی آپ کی والدہ شدید بیمار ہوئیں اور لاہور میں زیر علاج رہیں اس دوران آپ اپنے امتحان کی وجہ سے قادیان میں ہی رہے۔اس بیماری کے دوران آپکی والدہ فوت ہو گئیں اور آپ کو قادیان میں ہی اس کی اطلاع ملی۔یہ آپ کے لئے بہت تکلیف دہ موقع تھا لیکن آپ نے کمال صبر و ہمت کا مظاہر ہ کیا۔بات آپکی تعلیم کی ہو رہی تھی۔میٹرک کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے ایف ایس سی اور پھر پرائیویٹ بی۔اے کیا۔نت نئی غیر نصابی کتب کے مطالعہ سے خاصا لگاؤ تھا۔ان دنوں اردو اور انگریزی ادبی کتب کا مطالعہ آپ شوق سے کرتے۔شیکسپیئر، چارلس ڈکنز، کین ڈائل جیسے مصنفین کی کتب آپ نے کھنگال ڈالیں۔1949 ء میں آپ نے جامعہ احمدیہ میں داخلہ لیا اور 1953ء میں امتیاز کے ساتھ درجہ شاہد پاس کیا۔درجہ شاہد میں آپ کے مقالے کا عنوان النبوة فی الامۃ تھا۔یہ مقالہ جامعہ احمدیہ میں اب بھی موجود ہے۔1954ء میں آپ کے والد ماجد حضرت مصلح موعود پر ایک بد بخت نے چاقو سے حملہ کیا۔زخم کے باعث آپ کو شدید تکلیف رہی اور اسی سلسلہ میں آپ علاج کے لئے انگلستان روانہ ہوئے۔آپ کے ہمراہ جانے والے قافلہ میں حضرت مرزا طاہر احمد بھی شامل تھے۔وہاں پہنچ کر یہ فیصلہ ہوا کہ آپ انگلستان میں رہ کر مزید تعلیم حاصل کریں۔