سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ — Page 17
31 30- درس دیا کہ سب پر رقت طاری ہو گئی۔بعض چھینیں مار کر رونے لگے۔اسی روز لوگوں کے کندھوں پر سہارا لے کر پہنچے اور بیٹھے بیٹھے درس دیا۔فرمایا کہ جب میں مروں گا میری اولاد کے واسطے چندے ہرگز نہ لینا۔ان کی مسکین یا یتیم کی طرح مدد نہ کرنا۔میری اولا د کو بھی خدا اسی طرح دے گا جس طرح اس نے مجھے دیا۔اپنے گھر والوں کو نصیحت فرمائی کہ دکھوں میں کبھی نہ گھبرانا۔لا إله إلا اللہ پڑھتے رہنا۔27 فروری کو جمعہ کی نماز کے بعد ڈولی میں بیٹھ کر حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کی کوٹھی میں تشریف لے گئے۔راستے میں بورڈنگ ہاؤس کے پاس طالب علموں نے آپ کا استقبال کیا اس پر آپ نے ڈولی ٹھہرائی۔بچوں کے لئے در د دل سے دُعا مانگی۔اور مولوی محمد علی صاحب کو بلوا کر ارشاد فرمایا کہ مجھے تو اللہ تعالیٰ بہت ہی پیارا ہے اس نے دو کام بتائے ہیں تواضع اور خاکساری۔اس کی میری طرف سے بچوں کو نصیحت کر دو۔اور کہو ہرلڑ کا خیرات کرے اور ہرلڑ کا استغفار کرے۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب نے مغرب کے بعد بچوں کو یہ نصیحت کی۔4 / مارچ کو نماز عصر کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کو اچانک ضعف محسوس ہونے لگا۔اسی وقت آپ نے حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کو قلم دوات لانے کا حکم دیا اور لیٹے لیٹے یہ وصیت لکھی۔بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ خاکسار بقائمی حواس یہ لکھتا ہے۔لَا إِلهُ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ میرے چھوٹے بچے ہیں۔میرے گھر مال نہیں۔ان کا اللہ حافظ ہے۔ان کی پرورش یتامیٰ اور مساکین کے حساب سے نہ ہو۔کچھ قرضہ حسنہ جمع کیا جائے۔لائق لڑکے ادا کریں۔یا کتب جائیداد وقف علی الاولاد ہو۔میرا جانشین متقی ہو۔ہر دلعزیز ہو۔عالم باعمل ہو۔حضرت صاحب کے پرانے اور نئے احباب سے سلوک میں چشم پوشی ، در گذر کو کام میں لائے۔میں سب کا خیر خواہ تھا۔وہ بھی خیر خواہ رہے۔قرآن وحدیث کا درس جاری رہے۔مولوی محمد علی صاحب نے آپ کے حکم پر تین دفعہ وصیت پڑھ کر سنائی اس کے بعد آپ نے وہ کاغذ حضرت نواب محمد علی خان صاحب کو دے دیا۔فرمایا محفوظ رکھیں۔آپ کی یہ آخری وصیت گویا ایک بجلی تھی جس نے ہر شخص کو یہ احساس دلا دیا کہ ان کا پیارا اور محبوب امام جس کی برکتوں سے وہ ایک عرصہ تک فائدہ اٹھاتے رہے اب رخصت ہونے والا ہے۔دل اس خطرے سے کانپ رہے تھے۔ڈاکٹروں سے مشورے کئے گئے۔عاجزی اور سوز سے دعائیں ہونے لگیں۔۱۳ / مارچ بروز جمعہ آپ کی حالت نازک ہو گئی۔آخر وہ درد والی گھڑی آگئی جس کے خیال سے مومنوں کے دل کانپ رہے تھے۔بعد دو پہر دو بج کر بیس منٹ پر نماز کی حالت میں آپ اپنے مولیٰ سے جاملے۔انا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - وقات سے پہلے آپ نے اپنے بیٹے میاں عبدائی صاحب کو بلایا اور فرمایا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ پر میرا ایمان ہے۔اور اسی پر میں مرتا ہوں۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب اصحاب کو میں اچھا سمجھتا ہوں۔حضرت