سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ

by Other Authors

Page 13 of 20

سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ — Page 13

·23: -22۔دوسرے۔مرزا صاحب بڑے حوصلے والے ہیں۔تیسر ے۔اب عیسائی ایک منٹ کے لئے بھی کسی مذہب کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔چوتھے۔ہم بادشاہ ہیں۔یہ چاروں نتائج تو میں نے پہلے ہی دن نکال لئے تھے۔باقی پندرہ دنوں میں تو اور بہت سے نتیجے نکلے۔عیسائی نے ان کی وجہ پوچھی۔آپ نے جواب دیا۔نمبر ا:- حضرت مرزا صاحب نے ایک اصول بتایا تھا کہ عقل مند جو دعویٰ کرے اس کی دلیل دے۔اپنی طرف سے کچھ نہ کہے۔آپ وعدہ کے باوجود اس کی طرف نہیں آئے اس لئے جھگڑالو ہیں۔۔نمبر۲: - مرزا صاحب کا حوصلہ بہت بڑا ہے کہ پندرہ دن تک تم سے بحث کرتے رہے۔میرے جیسا پہلے ہی دن ختم کر دیتا۔نمبر ۳:- آپ اپنے مذہب کی سچائی کی دلیل کسی اور مذہب کے سامنے نہیں دے سکتے۔اس لئے کسی مذہب کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔نمبر ۴:۔ہم اس لئے بادشاہ ہیں کہ ہمارے دعوئی اور جواب کی دلیل ہماری پاک کتاب قرآن مجید میں موجود ہے۔قمر مسیح کا انکشاف ایک بزرگ خلیفہ نورالدین صاحب جھوٹی ایک دفعہ محلہ خانیار سری نگر سے گذر رہے تھے کہ ایک قبر پر انہوں نے ایک بوڑھے اور بڑھیا کو بیٹھے دیکھا۔اُن سے پوچھا یہ کس کی قبر ہے؟ جواب دیا نبی صاحب کی۔انہوں نے کہا یہاں نبی کہاں سے آ گیا؟ انہوں نے جواب دیا۔یہ نبی دور سے آیا تھا۔اور کئی سو سال پہلے آیا تھا۔اور یہ قبر شہزادہ نبی آصف کی قبر کے نام سے مشہور ہے۔خلیفہ نورالدین صاحب جمھونی نے حضرت خلیفہ امسیح الاوّل سے ذکر کیا۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک مجلس میں تشریف رکھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرمایا۔مجھے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کسی ایسی جگہ کی طرف گئے تھے جیسے کشمیر۔اس پر حضرت خلیفہ المسیح الاول نے خانیار والی قبر کا واقعہ حضور علیہ السلام کو بتایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خلیفہ جمونی صاحب کو بلا یا اور فرمایا کہ اس سے متعلق اور معلومات حاصل کریں۔دسمبر 1896ء کے آخر میں لاہور میں تمام مذاہب کا ایک جلسہ ہوا۔جس کی صدارت آپ نے کی۔اس جلسہ میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مضمون اللہ تعالیٰ کی خوشخبری کے مطابق سب مذہبوں کے مضامین پر بالا رہا۔1898 ء کے آغاز میں قادیان سے ایک اخبار ”الحکم“ نکلنا شروع ہوا۔اس کے کچھ عرصہ بعد ایک اور اخبار ” البدر“ کا اجراء ہوا۔حضرت مولوی نورالدین صاحب دونوں اخباروں کی بہت مدد کرتے ، پیسے سے بھی اور اپنے مضمون لکھ کر بھی۔آپ کو بچوں سے بہت محبت تھی۔قادیان میں چھوٹے بچوں کی ایک انجمن ہمدردان اسلام تھی۔آپ اکثر وہاں تشریف لے جاتے۔اور بچوں کو اپنی پیاری پیاری باتیں سُناتے۔آپ کے بیٹے میاں عبد الحئی صاحب نے قرآن ختم کیا۔تو اس دن آپ بہت خوش تھے کہ آپ کے لاڈلے بیٹے نے آپ کی سب سے پیاری کتاب ختم کی تھی۔میاں عبد اٹھی صاحب قرآن ختم کر کے آئے۔تو آپ نے فرمایا