سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ — Page 4
LO 4 قرآن رکھ دیا۔فرمایا۔ہماری طرف سے یہی ہے۔آپ بہت اچھے گھڑ سوار تھے۔گھوڑیوں کا بہت شوق تھا۔خدا نے مال و دولت دے رکھی تھی۔شاہانہ طبیعت کے انسان تھے۔خوشی چہرے سے ٹپکتی تھی۔بچوں سے بڑا پیار فرماتے تھے۔بڑے سے بڑے خرچ کی پرواہ نہ کرتے تھے۔بچوں کی اچھی صحت کا بہت خیال رکھتے تھے۔آپ کا دستر خوان سیب، انار، انگور یعنی اچھے پھلوں سے بھرا رہتا تھا۔بچوں کی دینی رنگ میں تربیت کرتے تھے۔تعلیم کا بہت شوق تھا۔مدن چند ایک ہندو عالم تھا۔وہ کوڑھ کی بیماری میں مبتلا ہو گیا۔یہ بیماری ایسی ہوتی ہے کہ گاؤں میں ایک شخص کو لگے تو سارا گاؤں بیمار ہو جاتا ہے اس لئے لوگوں نے شہر سے باہر اس کے رہنے کے لئے مکان بنوا دیا۔آپ نے اس کے پاس اپنے ایک بیٹے یعنی حضرت خلیفہ انبیع الاول کے بھائی کو پڑھنے کے لئے بھیجا۔لوگوں نے کہا کیا خوبصورت بچہ ہے۔کیوں زندگی خطرے میں ڈالتے ہو۔آپ نے جواب دیا۔”مدن چند جتنا علم پڑھ کر اگر میرا بیٹا کوڑھی ہو گیا تو مجھے کچھ پرواہ نہیں۔اچھا لباس پہنتے۔خاص قسم کی لنگی استعمال کرتے جس پر بلا ضرور ہوتا، جو آپ کی بیٹیاں تیار کرتی تھیں۔آپ اس پر فخر کرتے کہ میری بیٹیوں نے تیار کی ہے۔آپ کے سات بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔حضرت خلیفہ المسیح الاوّل سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔والدہ محترمہ آپ کی والدہ محترمہ کا نام نور بخت صاحبہ تھا۔جو اپنے خاوند کی طرح بہت ایک عورت تھیں۔نماز کی پابند۔باورچی خانے میں جائے نماز کھوٹی پر انکا رہتا۔وقت ہوتا تو وہیں نماز پڑھ لیتیں۔دین سے بہت واقف تھیں۔قرآن مجید کو بہت سمجھتی تھیں۔تیرہ برس کی عمر میں آپ نے قرآن مجید پڑھانا شروع کیا۔ہزاروں نے آپ سے قرآن پڑھا۔آپ کو بہت شوق تھا کہ آپ کی اولا د قرآنِ مجید سے محبت رکھے۔چنانچہ سب بچوں کو قرآن سے خاص محبت تھی۔پچاسی سال کی عمر تک پڑھاتی رہیں۔حضرت خلیفتہ اسی الاول سے بہت پیار کرتی تھیں۔چین کا زمانہ حضرت خلیفة المسیح الاول کا حافظہ بہت ہی اچھا تھا۔حتی کہ آپ کو دودھ چھوڑ نا بھی یاد تھا۔اس پر فضل یہ ہوا کہ ایسے گھر میں آنکھ کھلی جہاں ہر وقت اللہ اور رسول کا ذکر رہتا تھا۔شروع میں آپ نے اپنی والدہ صاحبہ ہی کی گود میں قرآن اور انہیں سے پنجابی زبان میں دین کی کتابیں پڑھیں۔پھر مدرسہ میں داخل ہوئے۔نماز کا شوق مدرسے کی پڑھائی کے وقت سے ہی شروع ہو گیا تھا۔آ کے استاد دوسرے بچوں کے ساتھ آپ کو نماز پڑھنے کے لئے بھیجا کرتے تھے۔نماز کے ساتھ آہستہ آہستہ دعاؤں کا شوق بھی آپ کے دل میں پیدا ہو گیا۔ایک دفعہ ایک لڑکے نے وضو کر لینے کے بعد سب کو کہا کہ نماز کون پڑھتا ہے۔یہ کہہ کر اس نے اپنی پیشانی ایک کچی دیوار کے ساتھ رگڑی۔جس سے مٹی کا نشان ماتھے پر نظر آنے لگا۔اس طرح اس نے سب لڑکوں کو نماز نہ پڑھنے اور جھوٹ بولنے کی عادت ڈالنے کی کوشش کی۔مگر آپ پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا بلکہ شوق اور بڑھ گیا۔